اسد درانی جی ایچ کیو میں اطمینان بخش جوابات نہیں دے سکے

اسد درانی کی کتاب چھپنے کی ٹائمنگ دیکھیں تو یہ انڈیا کی طرف سے ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہوسکتا ہے،دفاعی تجزیہ نگار امجد شعیب کی جنرل اسد درانی کی متنازع کتاب کے حوالے سے گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل مئی 12:43

اسد درانی جی ایچ کیو میں اطمینان بخش جوابات نہیں دے سکے
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔29مئی 2018ء) قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب نےگفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ جنرل اسد درانی نے اپنی کتاب کا مسودہ جی ایچ کیو سے کلیئر نہیں کروایا جو ملٹری کوڈآف کنڈکٹ کا حصہ ہے، اسد درانی جی ایچ کیو میں اطمینان بخش جوابات نہیں دے سکے جس کے بعد ان سے تفصیلی انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جنرل اسد درانی سے انکوائری کی بنیاد پر جج ایڈووکیٹ جنرل ڈپارٹمنٹ اس کے قانونی پہلوئوں کے مطابق آرمی چیف سے قانونی ایکشن منظور کروائے گا، اگر معلومات اور لوگ دستیاب ہوں تو اسد درانی کے خلاف انکوائری چھ سات دن میں مکمل ہوسکتی ہے، اسد درانی نے اگر کہیں سے دستاویزات منگوانی ہوں تو کچھ دیر لگ سکتی ہے۔

(جاری ہے)

امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب کا مسودہ جی ایچ کیو سے کلیئر کروایا تھا، مشرف کے پاس کلیئرنس سرٹیفکیٹ ہے توان پر کوئی کیس نہیں بنایا جاسکتا نہ ہی انہیں وضاحت دینے کیلئے بلایا جاسکتا ہے، اسد درانی نے اپنی کتاب میں کوئی راز منکشف نہیں کیا ہے، اسد درانی حالیہ کچھ معاملات پر جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ انہیں ثابت کرنا ہوگا، اسد درانی کی کتاب چھپنے کی ٹائمنگ دیکھیں تو یہ انڈیا کی طرف سے ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ آئی ایس آئی اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہوں نے مل کر ایک کتاب لکھی ہے۔اس کتاب میں ملک کے حوالے سے کچھ ایسی متنازع باتیں لکھی گئیں کہ جس کے بعد جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو طلب کیا گیا تھا اور مزید انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان میں کسی سابق آئی ایس آئی چیف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہو۔