آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان کووہ تمام اختیارات دیئے گئے جو دوسرے صوبائی حکومتوں کوحاصل ہیں ‘حافظ حفیظ الرحمن

منگل مئی 13:59

آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان کووہ تمام اختیارات دیئے گئے جو دوسرے صوبائی ..
گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی اورصوبائی حکومت کووہ تمام اختیارات دیئے گئے جوکسی دوسرے صوبوں کی اسمبلی اور صوبائی حکومت کوحاصل ہیں، وزیراعظم نے گلگت بلتستان آرڈر 2018میں ترمیم کا حق بھی اسمبلی کودینے کا وعدہ کیا ہے۔انہوںنے سپیکر فدا محمد ناشاد اور صوبائی وزراء کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018کا وزیراعظم نے باقاعدہ اعلان کردیاہے صدر پاکستان نے اس آرڈر پر دستخط کردئیے ہیں گزٹ آف پاکستان میں شائع ہونے کے بعد اسے پبلک کردیاجائیگا۔

انہوںنے بتایا کہ 1994کے لیگل فریم ورک آرڈر کو مکمل طورپر ختم نہیں کیاگیاتھا اس میں کچھ ترامیم کر کے گورننس آرڈر 2009بنادیا گیا تھا اس طرح گورننس آرڈر 2009کو ختم نہیں کیاگیا ہے بلکہ اس میں کچھ ترامیم کر کے گلگت بلتستان آرڈر 2018بنادیاگیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ لینڈ ریکوزیشن ایکٹ تمام صوبوں میں نافذ ہے اورگزشتہ چالیس سال گلگت بلتستان میں بھی نافذ ہے گورننس آرڈر 2009میں بھی یہ ایکٹ موجود تھا اور بغیر کسی تبدیلی کے اس ایکٹ کو گلگت بلتستان آرڈر 2018میں بھی برقرار رکھا گیا ہے مگر بعض لوگوںنے بدنیتی کی بنیاد پر پروپیگنڈہ کیا کہ اب اس آرڈر کے بعد حکومت لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کریگی انہوںنے کہا کہ علاقے کی امن کی خاطر ہم نے دو ڈھائی سال انتہائی صبر اوربرداشت سے کام لیا، اس عرصے میں لوگوںنے بہت کوشش کی کہ یہاں پر بھی سانحہ ہو خون خرابہ ہو لاشیں گرے تاکہ ترقی کا عمل رک جائے ۔

متعلقہ عنوان :