پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے ،اس سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے سالانہ 54 ارب ڈالر کی ضرورت ہے ‘ مشاہد اللہ خان

منگل مئی 14:12

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے ،اس سے مطابقت پیدا کرنے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے سالانہ 54 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ صرف سی پیک منصوبے کی کل مالیت 36ارب ڈالر ہے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے اور پاکستان جیسے ملک کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے انہی امیر ممالک کی مالی مدد درکار ہے جو خود کاربن کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے چین سے زیر زمین پانی کے ٹینک بنانے کے منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت کی ہے۔ اس تکنیک کے تحت سیلابی پانی کو محفوظ کر کے بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

مشاہد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے الگ وزارت بنائی اور وفاقی بجٹ میں اس کے لیے 8فیصد بجٹ کا مختص ہونا بھی بڑی بات ہے۔

وزیر اعظم کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت دس کروڑ درخت لگائے گئے جبکہ اسلام آباد میں گھر گھر شجر کاری پروگرام کے تحت طلبا ء سے درخت لگوائے گئے۔انہوںنے خیبر پختونخوا ہ میں تحریک انصاف کے بلین ٹری سونامی پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا ہ میں ایک ارب 22 کروڑ درخت واقعی لگے ہوتے تو پشاور میں اس وقت برف باری ہو رہی ہوتی اور اس پر وہ تحریک انصاف کو سلیوٹ کرتے۔

کراچی میں 2015 کے بعد اس سال بھی گرمی کی شدید لہر کے سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ان کی وزارت کے تحت آگاہی مہم چلائی گئی اگرچہ یہ ان کی انتظامی ذمہ داریوں میں شامل بھی نہیں تھا۔گلیشیئر پگھلنے، سمندری سطح بڑھنے اور سیلابی صورتحال سے زرعی اراضی زیر آب آنے کا امکان پاکستان کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تیزی سے کام ہوا ہے۔ پاکستان میں بھی رد عمل موجود ہے لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت یقینا ہے۔