فلسطین کو امداد اور ترقی کی مد میں 2000 ء سے 6 ارب ڈالر دیے، سعودی عرب

منگل مئی 14:48

ریاض ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) سعودی عرب کے ایوان شاہی کے مشیر اور شاہ سلمان مرکز برائے امداد اور انسانی خدمات کے نگران اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے فلسطین کو امداد انسانی اور ترقیاتی مد میں 2000 ء سے اب تک 6 ارب ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے۔ دارالحکومت ریاض میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کے عہد سے لے کر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کے دور تک فلسطین کی مدد سعودی پالیسی کا غیر متزلزل اصول ہے۔

پوری تاریخ میں فلسطین کی مدد سعودی عرب سے زیادہ کسی ملک نے نہیں کی۔ عالمی تنظیموں اور اداروں کے اعدادوشمار اس کا ٹھوس ثبوت ہیں۔ عبداللہ الربیعہ نیمزید کہاکہ فلسطینی عوام کی مدد کے لیے قائم قومی کمیٹی نے اس حوالے سے جو کچھ کیا ہے وہ مذکورہ اعداد و شمار میں شامل نہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ مملکت نے 2 لاکھ اضافی ڈالر دینے کابھی عہد کیا تھا جسے پورا کیا، مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے نئے مکانات بھی بنوائے اور پرانے گھروں کی مرمت بھی کروائی اس کے علاوہ نہرالبارد اور عین الحلوہ کیمپوں میں بھی مرمت کا کام کرایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رفح شہر میں مکانات، سکول، ہیلتھ سینٹر، کلچرل سینٹر ، کمرشل کمپلیکس، مساجد اور سڑکیں بنوائی اور آبی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ سعودی عرب میں یمن شام اور برما کے پناہ گزینوں کی تعداد مملکت کی کل آبادی کا 5 فیصد ہے۔