مانسہرہ انتظامیہ نے بیک فٹ پر جا کر ایبٹ آباد سے فوڈ اتھارٹی کو بلا کر اسے تاجروں کی چمڑی ادھیڑ کا ٹاسک دیدیا

منگل مئی 15:27

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) خیبر پختونخوا کے چار ضلعوں میں کوہاٹ، پشاور،، بنوں اور ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی قائم کر کے محکمہ فوڈ کے اختیارات کو ختم کر دیا گیا تھا مگر مانسہرہ میں باقی ضلعوں کی طرح ابھی بھی اختیارات محکمہ فوڈ کے پاس ہیں ۔خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی ایبٹ آباد نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے وضع کردہ طریقہ کار کے بالکل برعکس مانسہرہ انتظامیہ کی دعوت پر مانسہرہ کے تاجروں پر ہلہ بول دیا ہے، معمولی غلطی پر بغیر وارننگ کم از کم 25 ہزار روپے سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ کر دیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کا کام سب سے پہلے تاجروں کو فوڈ سیفٹی کے متعلق آگاہی دینا ہے۔

اس کے بعد غلطی پر وارننگ دینا اور مناسب وقت میں تاجر کو غلطی دور کرنے کا کہنا شامل ہے مگر مانسہرہ میں ایبٹ آباد سے ادھار آئی ہوئی فوڈ اتھارٹی کے نوجوان اہلکاروں کا کہنا تھا کہ سارے اختیارات ہمارے پاس ہیں، ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

مانسہرہ میں ہونے والے جرمانوں اور دکانیں سیل کرنے کے خلاف انجمن تاجران کے صدر محمد شعیب نے درجن بھر تاجر رہمائوں کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اے پلس کی سہولیات اور صفائی مانگتی ہے اور تاجروں کے نرخ سی گریڈ کے بھی نہیں دیئے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی دکانوں کے باہر گندگی صاف کروائیں تاکہ بازاروں سے مکھیاں ختم ہو سکیں اور تاجروں کے اے پلیس کے نرخ دیں تاکہ تاجر ماربل اور ٹائل لگی شیشے والی دکانوں کے اخراجات برداشت کر سکیں اور مکھیوں کے بغیر صاف ستھرے ماحول میں گاہک کو اشیاء خوردونوش بیچ سکیں کیونکہ موجودہ نرخ میں تاجر صرف جالی میں خرید کر اوپر ڈال سکتا ہے۔