تناول کو 10 روز کے اندر ضلع بنانے کے نعرے لگانے والے خاموش ہیں، ڈاکٹر عبدالرئوف تنولی

منگل مئی 15:31

ہری پور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) تناول کو 10 روز کے اندر ضلع بنانے کے نعرے لگانے والے مہینے گذرنے کے باوجود خاموشی کے سوا کچھ نہیں کر سکے، ضلع تناول کا قیام وقت کا اہم تقاضا اور تناول قبائل کا دیرینہ خواب ہے، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بھی اے این پی حکومت کی طرح ضلع تناول کے قیام کے متعلق جھوٹے وعدے ہی کرتی رہی، کچھ بھی ہو ضلع تناول کے قیام تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

ان خیالات کا اظہار ضلع تناول تحریک کے بانی و محسن تناول ڈاکٹر عبدالرئوف تنولی نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کالا ڈھاکہ اور کوہستان کی چند یونین کونسلوں کو اضلاع کے درجات مل سکتے ہیں تو صوبائی حکومت تناول کے ساتھ سوتیلی ماٰں جیسا سلوک کیوں برت رہی ہیں، تناول کی سرزمین میں کون سی کمی ہے، ضلع تناول کے قیام کے بغیر علاقہ کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی ممکن نہیں، ضلع تناول کے قیام تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، علاقہ تناول کو پسماندنگی میں دھکیلنے کیلئے ہزارہ کے تین اضلاع میں تقسیم کر کے قبائل اور سرزمین تناول کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا جو ایک منظم سازش تھی تاکہ یہ قوم مزید صدیوں تک ترقی یافتہ اقوام کی صفحوں میں شامل نہ ہو سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد تمام ریاستوں کو اضلاع کے درجے دیکر پاکستان میں شامل کیا گیا مگر ریاست امب کو تاحال ضلع کا درجہ نہیں مل سکا جس کی بدولت آج تناول پسماند گی میں ڈوبا ہوا ہے، لوئر اور اپر تناول کے عوام اب بھی زندگی کی بنیادی سہولیا ت سے محروم ہیں اور نہ ہی علاقہ کی تعمیر و ترقی کیلئے تاحال کوئی میگا پراجیکٹ ممکن ہو سکا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بھی عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کی طرح ضلع تناول کے قیام کے متعلق جھوٹے وعدے ہی کرتی رہی جس کا حساب الیکشن میں لیا جائے گا۔