جمعیت علمائے اسلام (ف)کا مردم شماری کے عبوری نتائج میں اقلیتوں کی آبادی کم ظاہر کرنے پر تحفظات کا اظہار

منگل مئی 15:31

جمعیت علمائے اسلام (ف)کا مردم شماری کے عبوری نتائج میں اقلیتوں کی آبادی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) جمعیت علمائے اسلام (ف)نے مردم شماری کے عبوری نتائج میں اقلیتوں کی آبادی کم ظاہر کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتوں کی اسمبلیوں میں نمائندگی میں اضافہ کیا جائے ،ْملک میں بسنے والی اقلیت کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے ،ْارکان اسمبلی کو سیکیورٹی فراہم کی جائے ورنہ ہمارے اسلحہ لائسنس بحال کئے جائیں جبکہ اراکین نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ٹاسک فورس کے قیام ‘ پارلیمنٹ ہائوس میں سیکرٹریٹ کے قیام اور اس ضمن میں قانون سازی پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ پوری پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر جے یو آئی کی آسیہ ناصر نے کہا کہ مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق مسیحی برادری کی پاکستان میں آبادی کم دکھائی ہے‘ ہمیں اس پر تحفظات ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک میں بسنے والی اقلیت کی دل آزاری نہ کی جائے اور ہماری اسمبلیوں میں نمائندگی کم ہے اس میں اضافہ کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تیسری مرتبہ انتقال اقتدار کا پرامن مرحلے طے ہو رہا ہے یہ خوش آئند ہے۔ ارکان اسمبلی کو سیکیورٹی فراہم کی جائے ورنہ ہمارے اسلحہ لائسنس بحال کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ آنے والے الیکشن میں برداشت کے کلچر کو فروغ دے کر مثالی بنائیں۔ جمہوریت اس وقت مضبوط ہوگی جب ہم اپنے رویے جمہوری بنائیں گے اور ہمیں جمہوری اداروں اور ووٹروں کی عزت یقینی بنانا ہوگی۔

انہوں نے سپیکر کے کردار کو سراہا۔ سپیکر نے کہا کہ مسیحی برادری بھی اسی طرح پاکستان ہیں۔ پانچ سال تک ارکان نے مجھے برداشت کیا جس کے لئے میں ان کا شکرگزار ہوں۔ شازیہ مری نے کہا کہ سیالکوٹ میں احمدی کمیونٹی کی عبادت گاہ پر حملے کی مذمت کرتی ہوں۔ اقلیتوں کو آئین کے تحت تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اقلیتیں پاکستانی ہیں ہمیں سب کو یکساں عزت دینی چاہیے۔

نکتہ اعتراض پر شیر اکبر خان نے کہا کہ ایک ایماندار شخصیت کو نگران وزیراعظم بنانے پر حکومت کے شکرگزار ہیں۔ نگران وزیراعظم کا تعلق ہمارے علاقے سوات سے ہے‘ ہمیں توقع ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کو صاف‘ شفاف اور منصفانہ کرانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جنگلات‘ معدنیات اور ہمارے پانی سے حکومت کو ریونیو حاصل ہوتا ہے مگر ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے کہ ہمیں پٹرول اور ڈیزل ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں مہنگا ملتا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔

نکتہ اعتراض پر خیال زمان اورکزئی نے کہا کہ گزشتہ 12,13 سال سے ہم دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے ضلع ہنگو کی 19 یونین کونسلوں میں سے 6 میں مکمل تاریکی ہے۔ ہمارے علاقے کے لوگوں کے بجلی کے بقایا جات 2 ارب 40 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں۔ غریب لوگ دو دو تین تین لاکھ بل کہاں سے دیں۔ ہمارے جو میٹر طالبان لے گئے تھے وہ ابھی تک دوبارہ نہیں لگے اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔

نکتہ اعتراض پرمولانا قمر الدین نے کہا کہ سپیکر نے ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلائی۔ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ بھی کامیابی عطا کرے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے تحت ہم حلف اٹھا کر عہد کرتے ہیں کہ آئین پر کاربند رہیں گے مگر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ یہ آئین سے وفاداری کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سود کے خاتمے کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا نہ جانے کب تک سودی قرضے سے ملک چلاتے رہیں گے۔

پاکستان صرف اللہ اور رسولؐ کے احکامات پر عمل پیرا ہو کر ترقی کر سکتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐکے خلاف جنگ سے کامیابی نہیں مل سکتی۔ صاحبزادہ محمد یعقوب نے کہا کہ سپیکر کا کردار مثالی اور بے انتہا برداشت پر مبنی ہے‘ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ یہ کردار ادا کرنے کا موقع دے‘ ضلع دیر بالا میں نادرا کا دفتر قائم کردیا گیا ہے مگر یہ دفتر ابھی تک عملی طور پر کام شروع نہیں کر سکا۔

لوگوں کو طویل مسافت طے کرکے تیمرگرہ آنا پڑتا ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے رکن افتخار الدین نے مطالبہ کیا کہ چترال کو گولن گول پاور منصوبے سے بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لئے پیڈو اور پیسکو کے درمیان معاہدے کو یقینی بنایا جائے۔ افتخار الدین نے کہا کہ چترال میں گولن گول پاور منصوبے کا افتتاح ہو چکا ہے جس سے لوئر اور اپر چترال کو بجلی اس شرط پر فراہم کی گئی کہ پیڈو کے ساتھ معاہدہ ہوگا۔

36 میگاواٹ کی بجائے 72 میگاواٹ بجلی دستیاب ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ اپر چترال میں چار ماہ سے بجلی مفت دی جارہی ہے۔ پیڈو اور پیسکو کا بجلی کی خریداری کا معاہدہ نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ مگر سپیکر نے بے مثال صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری طرف سے تنقید کے باوجود ہمیشہ ہمیں عزت دی۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتیں بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ ہمیں تمام اقلیتوں کو یکساں عزت اور تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگو‘ کرک اور کوہاٹ تیل اور گیس پیدا کرنے والے اضلاع ہیں مگر ان اضلاع میں گیس اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائن منصوبوں پر ہمارے ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی اختلافات ختم کرکے ملک کے لئے ہمیں ایک ہونا ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن معین وٹو نے قومی اسمبلی کی پانچ سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود متفقہ قانون سازی خوش آئند ہے‘ قومی مفاد کے لئے ہمیں آئندہ بھی مل جل کر چلنا ہوگا۔ نکتہ اعتراض پر معین وٹو نے کہا کہ اسمبلی بخیریت اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہے۔ سپیکر‘ ڈپٹی سپیکر سمیت پورا ایوان مبارکباد کا مستحق ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود ایوان نے متفقہ قانون سازی کی۔

سپیکر کا کردار لائق تحسین ہے۔۔ایم کیو ایم کے رکن رشید گوڈیل نے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر وزارت خارجہ‘ پارلیمان اور میڈیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نکتہ اعتراض انہوںنے فاٹا کے انضمام پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ 2013ء میں 55 ہندو خاندانوں نے بھارت نقل مکانی کی تھی۔ اس وقت بھارتی میڈیا اور پارلیمان نے پوری دنیا کو سر پر اٹھا لیا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ نہیں۔

بعد میں پتہ چلا کہ وہ کاروباری معاملات کے لئے بھارت گئے تھے جن میں سے بعض واپس آگئے۔ بھارت میں مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ اور دیگر معمولی ایشوز پر مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ ہمارا وزارت خارجہ‘ پارلیمان اور میڈیا کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر پر قومی مذاکرہ ہونا چاہیے۔

اجلا س کے دور ان قومی اسمبلی نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ٹاسک فورس کے قیام ‘ پارلیمنٹ ہائوس میں سیکرٹریٹ کے قیام اور اس ضمن میں قانون سازی پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ پوری پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہائوس میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس پر ہم سپیکر‘ ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ٹاسک فورس اور سیکرٹریٹ کا قیام خوش آئند ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان دنیا کی پہلی پارلیمان ہے جہاں ایس جی ڈی سیکرٹریٹ موجود ہے۔ یہ ہائوس اس ضمن میں صوبائی اسمبلیوں میں بھی اس طرح کے اقدامات کی تجویز پیش کرتی ہے۔ پارلیمانی ٹاسک فورس کو مستقبل کی پارلیمان کی ایک مستقل خوبی ہونی چاہیے۔

ایوان نے اس قرارداد کی منظوری دی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اپنے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے خطاب میں سپیکر سردار ایاز صادق کی اس ضمن میں خدمات کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر نے اس اہم ایشو پر کام کیا ہے جس میں قانون سازی اور عوام کی رائے کو مقدم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں‘ صوبائی اسمبلیوں‘ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون سازی اسمبلیوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے بھی اس ضمن میں معاونت کی ہے جو خوش آئند ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والی پارلیمنٹ اور ارکان پارلیمان اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔۔تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ 29 مئی کو پیس کیپر ڈے منایا جارہا ہے‘ ہماری فوج اس میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ ہماری خواتین بھی یہاں پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

ہمیں ان کی خدمات کو سراہنا چاہیے۔ نکتہ اعتراض پر انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ان کی خدمات کو سراہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آگاہ کرے کہ وہ ایران پر ٹرمپ کی پابندیوں کو قبول کرے گی یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے جس رکن نے اقلیتوں کے بارے میں نازیبا کلمات کہے ہیں‘ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

اجلاس میں توجہ مبذول نوٹس کے موقع پر تحریک انصاف کی رکن ساجدہ بیگم نے کورم کی نشاندہی کردی۔ گنتی کرنے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے اجلاس کچھ دیر کے لئے ملتوی کردیا۔ بعد ازاں اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی سپیکر نے گنتی کرانے کا حکم دیا۔ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آئندہ دو روز وقفہ سوالات نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) بدھ کی صبح گیارہ بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔