معروف صحافی نے عمران خان کے ساتھ گزاری ایک شام سے متعلق دلچسپ واقعہ سنا دیا

الزامات کی زد میں رہنے والا عمران خان اٹھا، اس نے ایک کونے میں مصلّیٰ بچھایا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا، میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ وہ انسان ہے جس کے مخالفین پتہ نہیں اس پر کون کونسے الزامات لگاتے ہیں،معروف کالم نگار مظہر برلاس کا اپنے کالم میں اظہار خیال

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل مئی 15:19

معروف صحافی نے عمران خان کے ساتھ گزاری ایک شام سے متعلق دلچسپ واقعہ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔29مئی 2018ء) معروف کالم نگار مظہر برلاس کا اپنے ایک کالم ’عمران خان ایسا نہیں کرے گا ‘ میں کہنا ہے کہ اس وقت سیاسی فضا عمران خان کے حق میں ہے۔ یہ فضا بناتے ہوئے عمران خان کو 22 سال لگے، ان 22 سال میں جدوجہد کے کئی مراحل آئے۔ آج جو لوگ تحریک انصاف میں دھڑا دھڑ شامل ہو رہے ہیں، ایک زمانے میں وہ پی ٹی آئی کو تانگہ پارٹی کہتے تھے۔

کیا مکافاتِ عمل ہے آج وہی لوگ تحریک انصاف کا حصہ بننے کے لئے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ یہی عمران خان کی کامیابی ہے کہ اس نے مخالفین کو شکست سے دوچار کر دیا ہے، الیکشن میں اترنے سے پہلے ہی مخالفین کی صفیں بکھری پڑی ہیں۔ انہیں امیدوار تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔مظہر برلاس نے اپنے ایک کالم میں عمران خان سے متعلق ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے یہ موسم سرما کی سنہری سہ پہر تھی، میں عمران خان کے ساتھ بنی گالا میں کھلے آسمان تلے بیٹھا تھا۔

(جاری ہے)

سیاسی مخالفین کی بات ہوئی تو میں نے خان صاحب کو مولا علیؓ کا یہ قول سنایا کہ ’’اگر کسی کا قد دیکھنا ہو تو اُس کے مخالفین کی تعداد دیکھو‘‘۔ اس قول کے بعد میں نے عمران خان سے کہا کہ تمہارا سیاسی قد کس قدر بڑھ چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف تمہارا مخالف ہے۔ آصف زرداری تمہاری مخالفت کرتا ہے۔ کراچی کا غیر اعلانیہ حکمران تمہارا دشمن ہے۔

ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ وہ اچانک اٹھا، اس نے ایک کونے میں مصلّیٰ بچھایا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ شاید اس نے درختوں کے سایوں کو دراز ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور نماز کا وقت کم تھا۔ الزامات کی زد میں رہنے والا میرے پاس ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ وہ انسان ہے جس کے مخالفین پتہ نہیں اس پر کون کونسے الزامات لگاتے ہیں اور یہ ان تمام الزامات کو ایک طرف رکھ کر اپنے خالق کے سامنے پیش ہو جاتا ہے، اس نے کبھی اپنی نمازوں کی تشہیر نہیں کی حالانکہ وہ تہجد بھی پڑھتا ہے۔ کبھی اُس کے کردار پر حملے ہوتے ہیں، کبھی اخلاق پر تو کبھی اسے یہودی لابی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن وہ ان الزامات کی پرواہ نہیں کرتا۔