کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے احتساب عدالت کے سوالنامے میں سے 80 کے جواب دیدئیے

جے آئی ٹی میں سخت ماحول تھا، جیسے جنگی قیدی بیٹھے ہوں ،ْعدالت میں بیان

منگل مئی 16:56

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے احتساب عدالت کے سوالنامے میں سے 80 کے جواب دیدئیے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے احتساب عدالت کے سوالنامے میں سے 80 کے جواب دیدئیے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر روسٹرم پر آئے اور بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا جے آئی ٹی میں سخت ماحول تھا، جیسے جنگی قیدی بیٹھے ہوں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا میری عمر 55 سال ہے، گزشتہ 10 برسوں سے رکن قومی اسمبلی ہوں، سپریم کورٹ نے زیرالتوا درخواستوں کو نمٹانے کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی، مجھے اور میری اہلیہ کو 20 اپریل کے فیصلے میں شامل تفتیش ہونے کی کوئی ہدایت نہیں تھی ،ْپراسیکیوٹر نیب نے کیپٹن (ر) صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میرے بس میں نہیں 5، 6 لوگ آپکے پیچھے بھی کھڑے کر دیتا، کتنی ذیادتی ہے آپ اکیلے کھڑے ہیں۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کیپٹن (ر) صفدر کا بیان انکے وکیل کی جانب سے لکھوانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کے جواب تو ایک ہی سانچے جیسے ہیں، ہم نے ان کو اتنا ریلیکس کر رکھا ہے لیکن یہ جواب دینے کا کوئی طریقہ کار نہیں، سوال ملزم سے کیا جائے اور جواب وکیل دے، تینوں ملزمان کے جوابات ایک جیسے ہیں عدالت کا وقت بچایا جائے۔ جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا جب سوال ایک جیسے ہوں گے تو جواب بھی ایک جیسے ہی آئیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم تو کسی گواہ سے ملیں تو انہیں اعتراض ہوتا ہے، یہ ملزم کا بیان لکھ بھی لائیں تو کوئی مسئلہ نہیں، گواہ کو ملنا بہت بڑا گناہ ہے، ملزمان کے ایک جیسے بیان پر ہمیں فائدہ ہے، اتنا فئیر ٹرائل کبھی نہیں ہوا۔ وکیل امجد پرویز نے کہا یہ بحث کی باتیں ہیں، آج میرے موکل کا بیان مکمل نہیں ہوگا، تاریخ گواہ ہے کہ یہ کیا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا لگتا ہے کیپٹن صفدر صاحب ! آپ سوال پڑھ کر ہی نہیں آئے، جس پر انہوں نے جواب دیا سوال ہی نہیں پوری تراویح بھی پڑھیں ہیں، اب تک 55 سوالات پڑھ چکا ہوں۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے احتساب عدالت کو بتایا ہے کہ مریم نواز کو نیسلن اور نیسکول کا ٹرسٹی بنایا گیا تھا اور انہوں نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے تھے، جے آئی ٹی کو بتا دیا تھا وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد، نواز شریف کے پارلیمنٹ سے خطاب، قطری خط، حسن، حسین اور مریم نواز کے انٹرویوز سمیت زیادہ تر سوالوں کے جواب میں غیر متعلقہ کے الفاظ دہراتے رہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مریم نواز کو نیسلن اور نیسکول کا ٹرسٹی بنایا گیا تھا اور وہ ٹرسٹ ڈیڈ کے گواہ ہیں۔ کیپٹن صفدر کا کہنا تھا جے آئی ٹی رپورٹ کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، اس لئے شواہد کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

کیپٹن صفدر کا عدالتی سولات پر کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کے سامنے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیوں کو سیل نہیں کیا تھا، نہیں معلوم فورنزک ٹیسٹ کیلئے وہ کیسے اور کس حال میں ریڈلے کی لیبارٹری تک پہنچی۔ جے آئی ٹی میں پیشی کے وقت کہا تھا کہ کبھی وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا ،ْ کیپٹن صفدر بدھ کو بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔احتساب عدالت میں کیپٹن (ر) صفدر نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے جے آئی ٹی میں پیشی پر پوچھا گیا کہ پاناما کیا ہے، میں نے جواب دیا کہ پاناما 58 ٹو بی ہے، مجھے سخت سوالات کر کے اور دباؤ ڈال کر وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا خواہش تھی عدالت میں بیان قلمبند کرائوں تو اہلخانہ میں سے کوئی ساتھ نہ ہو، مریم نواز میرے ساتھ 25 سال سے ہے، اسوقت نواز شریف کو انکی زیادہ ضرورت ہے۔