مقبوضہ کشمیر‘ سانحہ شوپیاں کشمیر کی تاریخ کا بدتر ین واقعہ ہے

حریت رہنمائوں کی طرف سے آسیہ اور نیلوفر کوزبردست خراج عقیدت پیش

منگل مئی 18:03

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں حریت رہنمائوںنے ضلع شوپیان میں نوبرس قبل بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے حرمتی اور قتل کا شکار بننے والی آسیہ اور نیلوفر کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے نے پوری کشمیری قوم کے اجتماعی ضمیر کو زخمی کر دیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت رہنمائوں شبیر احمد ڈار، محمد اقبال میر،محمد احسن انتو، امتیاز احمد ریشی ،غلام نبی وار اور غلام نبی وسیم نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں آسیہ اور نیلوفر کو ان کی شہادت کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ نوبرس گزرنے کے بعد آج بھی متاثرہ خاندان انصاف سے محروم ہے۔

انہوںنے افسوس ظاہرکیاکہ بھارتی نظام عدل و انصاف سے کشمیریوں کو انصاف ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہیں۔

(جاری ہے)

حریت رہنمائوںنے کہاکہ آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری اور قتل میںملوث مجرم آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔انہوںنے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جاری کشمیری خواتین کی بے حرمتیوں کے واقعات میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔

ادھر حریت رہنماء اور جموںوکشمیر پیپلز لیگ کے وائس چیر مین محمد یاسین عطائی نے بھی ایک بیان میں شوپیان میں آ سیہ اورنیلو فر کے اغوا اور بے حرمتی کے بعد قتل کے سانحے کو نوبرس مکمل ہونے کے موقع پر اس سانحہ کی کسی غیرجانبدار عالمی ادارے کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ دوہرایا ہے۔انہوںنے کہاکہ دنیا کی کو ئی بھی غیرت مند قوم اپنی خواتین کی عصمت دری کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتی۔

انہوں نے تا بندہ غنی قتل کیس اورسانحہ کنن پوشہ پورہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوجیوںنے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے علاوہ کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیارکے طورپر استعمال کیا ہے۔انہوںنے سانحہ شوپیاں کو کشمیر کی تاریخ کا بدترین واقعہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ہماری یہ بیٹیاں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔واضح رہے کہ وردی میں ملبو س بھارتی اہلکاروںنے شوپیاں کی رہائشی آسیہ اور نیلوفر کو 29مئی 2009ء کو اغواکر کے عصمت دری کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھااور ان کی لاشیں ایک نالے سے برآمد ہوئی تھیں۔