جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں، چیئر پرسن این سی ایچ ڈی

پاکستان میں 40فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں ، ان میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ شامل ہیں، پرائمری کلاس تک ہم بہترین رسمی تعلیمی نظام بناچکے ، یہ نظام 5کروڑ 70لاکھ ان پڑھ اور64لاکھ سکولوں سے باہررہ جانے والے بچوں کیلئے کافی نہیں ہے، رزینہ عالم خان کا غیر رسمی تعلیم پر اسلام آباد فورم کے تیسرے اجلاس سے خطاب

منگل مئی 18:11

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) این سی ایچ ڈی کی چیئر پرسن اور سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاکے ممالک میں ایک تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں، پاکستان میں 40فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں ان میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ شامل ہیں، پرائمری کلاس تک ہم بہترین رسمی تعلیمی نظام بناچکے ، یہ نظام 5کروڑ 70لاکھ ان پڑھ اور64لاکھ سکولوں سے باہررہ جانے والے (10سی14)سال عمر کے بچوں کیلئے کافی نہیں ہے۔

غیر رسمی تعلیم پر اسلام آباد فورم کے تیسرے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ ۔ جنوبی ایشیاکے ممالک میں ایک تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں، اسی طرح تعلیمی مواد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں 40فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ شامل ہیں، پرائمری کلاس تک ہم بہترین رسمی تعلیمی نظام بناچکے ہیں لیکن یہ نظام 5کروڑ 70لاکھ ان پڑھ اور64لاکھ سکولوں سے باہررہ جانے والے بچے جن کی عمر (10سی14)سال ہے کیلئے کافی نہیں ہے لیکن ہم ابھی بھی 90فیصد شرح خواندگی حاصل کرنے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں،اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم غیر رسمی تعلیم کو متحرک کریں اور رسمی اور غیر رسمی تعلیمی نظام کے ذریعے نامکمل ایجنڈے کو پورا کر سکیں۔

(جاری ہے)

وہ غیر رسمی تعلیم پر اسلام آباد فورم کے تیسرے اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔