(ن) لیگ کی حکومتی مدت پوری ہونے کے باوجود راولپنڈی میں کئی ہسپتال ابھی تک مکمل نہ ہو سکے ،رپورٹ

منگل مئی 18:43

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) 31 مئی کو (ن) لیگ کی حکومت کی مدت پورے ہونے کے باوجود راولپنڈی کے کئی ہسپتال سالوں گزرنے کے باوجود ابھی تک نامکمل ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں بیشتر ہسپتال حکومتوں کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کے باعث سالوں سے ابھی تک نامکمل ہیں۔ مدر اینڈ چلڈرن ہسپتال جو کہ آٹھ اپریل 2005 میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزارت ریلوے شیخ رشید احمد نے شروع کیا تھا اس ہسپتال کی عمارت ابھی تک نامکمل ہے کیونکہ پناجب میں (ن) لیگ نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں اس کے لئے ایک بار بھی فنڈز کی منظوری نہیں دی۔

اس منصوبے میں 400 بیڈز کا ہسپتال جدید سہولیات کے ساتھ 2008 سے عوام کے لئے کھولا جانا تھا اور اس منصو بے کے آدھے فنڈز وفاقی حکومت اور آدھے پنجاب حکومت کو ادا کرنے تے اس ہسپتال میں نرسنگ سکول کا قیام بھی کی اجانا تھا اور حکومت نے یہاں چیسٹ ڈزیز سینٹر کا قیام کرنا تھا جہاں چھاتی کے کینسر اور ٹی بی کیسز کا علاج و معاملہ دیکھا جاتا تھا رواں سال اپریل میں حکومت نے اس منصوبے کے لئے پانچ بلین روپے کا اعلان کیا لیکن مقررہ وقت میں فنڈز حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ان فنڈز کو اگلے مالی سال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

ایک اور مدر اینڈ چلڈرن ہسپتال کمیٹی چوک ، جس کا افتتاح وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کیا وہ ابھی تک نامکمل ہے اور فنڈز ناکافی ہونے کی وجہ سے پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اس نامکمل عمارت وک بے نظیر بھٹو ہسپتال کے فلٹر کلینک مئیں تبدیل کردیا ۔ راولپندی شہر کی حدود میں تیسرا نامکمل ہسپتال را ولپنڈی انسٹیٹوٹ آف یارڈلوجی ہے انسٹیٹوٹ آف یارڈیالوجی اینڈ کڈنی ٹرانسپلاٹ جو کہ مری روڈ پر واقع ہے ابھی تک نامکمل ہے اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اگر یہ منصوبہ اس سال پورا نہ ہوا تو اس منصوبے کی لاگت میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔

منصوبہ 2012 میں شروع کیا گیا اور اس کی لاگت دو بلین روپے بتائی گئی لیکن کام میں سستی اور تاخیری کے باعث لاگت بڑھ کے 3.2 بلین روپے ہو گئی۔ پنجاب حکومت نے پنجاب ایگرلیکلچر ڈیپارٹمنٹ سے 96 کنال گجہ حاصل کی اور اس کے آفس کو روات منتقل کر دیا ۔ حکومت یہاں اپنی دور حکومت میں 250 بیڈز کا ہسپتال بنانا چاہتی تھی لیکن بتایا جاتا ہے کہ ٹھیکیدار اپنا کام وقت پر مکمل نہیں کر سکا جبکہ تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہے پانی کی سپلائی اور نقاسی کا نظام بھی مکمل ہو چکا ہے ہسپتال کو اب چالو کرنے کے لئے صرف سامان اور بھرتیوں کی ضرورت ہے ۔

پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے بتایا کہ ابھی اگلی حکومت پر منحصر کرتا ہے کہ وہ یہ تمام منصوبے پورے کرتی ہے یا نہیں ۔ اور فلٹر کلینک کو مکمل ہسپتال بناتی ہے یا نہیں جبکہ عوامی مسلم لیگ کے راہنما شیخ رشید احمد نے اس سوال پر جواب دیا کہ (ن) لیگ صحت اور تعلیم کے منصوبوں پر پیسے نہیں لگاتی یہ صرف ان منصوبوں پر رقم لگاتی ہے جہاں ان کو زیادہ کمیشن ملے ۔ اس وقت راولپنڈی کی عوام کو صحت کی سہولتیں اور ٹریفک بھیڑ سے بچنے کے لئے مری روڈ کا ایک متبادل راستہ چاہئے ۔ ۔