افغانستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 17شہری جاں بحق ، متعدد زخمی ہوگئے

واقعہ تکلیف دہ ہے اس کی فوری تحقیقات کرینگے ، جاں بحق ہونے والوں میں مقامی پولیس کمانڈر اور سینٹ چیئرمین فضل ہادی مسلمیار کا رشتہ دار بھی شامل ہے ، صوبائی حکام

منگل مئی 18:43

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) افغانستان کے مشرقی صوبے نگرہار میں افغان فورسز کے آپریشن کے دوران 17 شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ صوبائی حکومت کے میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ افغان فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد چیئرمین سینیٹ فضل ہادی مسلمیار کے رشتہ دار ہیں۔صوبائی حکومت نے واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

صوبے کے گورنر حیات اللہ حیات نے واقعے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات پر زور دیا۔ افغان میڈیا کے مطابق صوبائی گورنر کے ترجمان عطا اللہ نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن ضلع چپرھار کے علاقے دولتزئی میں کیا گیا تھا تاہم انہوں نے واقعے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 9 بتائی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک مقامی پولیس کمانڈر اور سینیٹ چیئرمین فضل ہادی مسلمیار کا ایک رشتہ دار بھی شامل ہے جبکہ دیگر 8 شہری زخمی ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زخمیوں میں ایک خاتون اور ایک لڑکی بھی شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان نے دعوی کیا کہ فورسز کے آپریشن میں جاں بحق ہونے والے تمام شہری سینیٹ چیئرمین فضل ہادی کے رشتہ دار تھے۔یاد رہے صوبہ نگر ہار کے بیشتر علاقے پر طالبان اور داعش کے جنگجو قابض ہیں جبکہ یہاں آئے روز افغان فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کیے جاتے ہیں۔۔