نیب افسران کی توہین نہ کرے،ایسے ملک نہیں چل سکتا،وزیراعظم

میں نےچیئرمین نیب کوخود خط لکھا کہ آپ کےسوالات کےخود آکرجواب دوںگا، اگر نیب کو کوئی شکایت ہے تو متعلقہ سیکرٹری سےجواب کرے،نیب پرالزام نہیں لگا رہا نیب کےرویے کی بات کررہا ہوں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی توانائی منصوبوں سے متعلق پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل مئی 17:45

نیب افسران کی توہین نہ کرے،ایسے ملک نہیں چل سکتا،وزیراعظم
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 مئی 2018ء) : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب افسران کی توہین نہ کرے، ایسے ملک نہیں چل سکتا،میں نے چیئرمین نیب کو خود خط لکھا کہ آپ کے سوالات کے خود آکر جواب دوں گا، اگر نیب کو کوئی شکایت ہے تو متعلقہ سیکرٹری سے جواب کرے، نیب پرالزام نہیں لگا رہا نیب کے رویے کی بات کررہا ہوں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں توانائی منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سال 35فیصد اضافی بجلی پیدا کی گئی ہے۔

موجودہ حکومت کے دور میں 11ہزار461 میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل کی گئی ہے۔اپریل 2013ء میں 6.3 ارب یونٹ استعمال ہوئے۔جبکہ اب 2018ء میں9.9 ارب یونٹ استعمال ہوئے۔اس کا مطلب اضافی بجلی پیدا کی گئی تواستعمال بڑھا ہے۔انہوں نے کہاکہ پانچ سالوں میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

ملک میں ابھی بھی28 ہزار 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے کہاک ہ اب 3000 سے زائد بجلی ہائیڈل سے پیدا ہورہی ہے۔کل افطار میں بجلی کی طلب 24ہزار800 میگاواٹ طلب تھی ۔جو کہ ریکارڈ طلب ہے۔موجودہ رمضان میں طلب ورسد کا تناسب بہتر رہا۔ جون میں صرف 362 اور جولائی میں صرف 420 میگاواٹ کا شارٹ فال آئے گا۔انہوں نے کہاکہ جولائی کے بعد ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بالکل بھی نہیں ہوگی۔جولائی 2018ء میں 6ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہورہی ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے دور میں 11ہزار 461 میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل کی گئی ہے۔جب کہ ابھی بجلی کے جن منصوبوں کی تکمیل کا کام جاری ہے۔10ہزار 600 مزید 2020ء تک سسٹم میں شامل ہوجائے گا۔ہم نے ایک راستے کا تعین کردیا ہے اگلی حکومتیں اگر اس کام کوجاری رکھیں توآئندہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔۔وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کی کوئی امید نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی چوری کھلم کھلا ہوتی ہے لیکن پولیس پرچہ نہیں کرتی۔۔بجلی چوری پرقابو پانا صوبوں کا کام ہے۔ ہم بجلی بنا کرصوبوں کے حوالے کریں گے تاکہ انہیں بھی پتا چلے۔انہوں نے کہاکہ توانائی کے منصوبوں کاکریڈٹ نوازشریف کوجاتا ہے۔کوئی حکومت بھی اتنے منصوبے نہیں لگا سکتی جتنے منصوبے ہماری حکومت نے لگائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیب کاروائی کرے اور متعلقہ سیکرٹری سے جواب طلب کرے ۔

کسی کوخواہ مخواہ تنگ نہ کرے ۔نیب جس طرح کررہا ہے اس سے ملکی نظام نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہاکہ افسران کی بے عزتی نہ کی جائے ملک ایسے نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ میں نے چیئرمین نیب کو خود خط لکھا کہ آپ کے سوالات کے خود آکر جواب دوں گا۔نیب افسران کو بے عزت نہ کرے ، اگر نیب کو کوئی شکایت ہے تو متعلقہ سیکرٹری سے جواب کرے۔میں نیب پرالزام نہیں لگا رہا نیب کے رویے کی بات کررہا ہوں۔۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے ہرفیصلے کے ذمہ داراور جوابدہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ایل این جی نہ ہوتی تو8گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی۔مخالفین کوچیلنج ہے ایل این جی کے معاملے پرکسی بھی جگہ بات کرلیں۔انہوں نے کہاکہ الزام لگانے والے 31مئی کے بعد کسی بھی چینل پرمناظرہ کرلیں۔