کراچی کو بد قسمتی سے کوئی اون نہیں کرتا، امن وامان سے کاروبار میں تیزی آتی ہے۔ شہر میں پائیدار امن کے لیے تعصب کا خاتمہ ضروری ہے، آئی جی سندھ

سخت پولیسنگ سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے،رمضان میں بھکاریوں کی طرح جرائم پیشہ افراد بھی کراچی آ جاتے ہیں، ایف پی سی سی آئی میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو

منگل مئی 20:38

کراچی کو بد قسمتی سے کوئی اون نہیں کرتا، امن وامان سے کاروبار میں تیزی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ کراچی کو بد قسمتی سے کوئی اون نہیں کرتا، امن وامان سے کاروبار میں تیزی آتی ہے۔ شہر میں پائیدار امن کے لیے تعصب کا خاتمہ ضروری ہے اور سخت پولیسنگ سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے،رمضان میں بھکاریوں کی طرح جرائم پیشہ افراد بھی کراچی آ جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت (ایف پی سی سی آئی)کے دورے کے موقع پر تاجروصنعتکاروں سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق احمد مہر کے علاوہ ٹریفک کراچی اور ساوتھ زون کے ڈی آئی جیز بھی انکے ہمراہ تھے ۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران و ممبران نے انکا استقبال کیا اور اپنے اپنے خطابات میں صنعتی زونز اور تاجر برادری کو درپیش مسائل ودیگر مشکلات کا ناصرف تفصیلی احاطہ کیا بلکہ کراچی کے تمام صنعتی ایریاز میں پولیس سیکیورٹی وٹریفک اقدامات کو مذید تقویت دینے کی جانب بھی آئی جی سندھ کی توجہ مبذول کرائی۔

(جاری ہے)

آئی جی سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاجر برادری تھانہ جات میں قائم پولیس فیسیلیٹیشن سینٹرز/رپورٹنگ رومز کے لیئے روزانہ کی بنیاد پر کم از کم ایک گھنٹہ وقف کریں اور مفاد عامہ کے لیئے پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے مجموعی امور کا بذات خود جائزہ لیں تاکہ آپکی تجاوہز اور مشاورت سے جملہ امور کو مذید بہتر اور مثر بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ مددگار 15 کی اپ گریڈیشن کا پروجیکٹ مکمل ہوچکا ہے اور اسے آٹ سورس کردیا گیا ہے تاہم اب بھی اس میں مذید بہتری اور جدت لانیکی گنجائش بنتی ہے اور اس تناظر میں مددگار15 پر تاجر برادری کے نمائندوں کو آن بورڈ کرنیکے اقدامات کو ممکن بنایا جارہا ہے اور یہ صرف اور صرف تاجر برادری کے تعاون سے ہی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے تمام تر مثبت اقدامات میں تاجر برادری کے کردار کو یقینی بنانا ہے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ شہر کے تمام صنعتی زونز کے لیئے پولیس اور تاجربرادری باہم اشتراک سے ایک ایسا میکنزم تیار کریں کہ جو تمام صنعتی زونز میں نافذالعمل بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس میکنزم کی جملہ حکمت عملی اور لائحہ عمل میں تاجر برادری کو لاحق سیکیورٹی کے ممکنہ مسائل کے حل،صنعتی ایریاز میں جرائم کے مثر طور پر انسداد،ملوث گروہوں انکے سرپرستوں اور کارندوں کی بیخ کنی سمیت ایسے تمام ایریاز میں پیٹرولنگ پکٹنگ اسنیپ چیکنگ کے ساتھ ساتھ پولیس ڈپلائمنٹ جیسے امور پر خصوصی توجہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس شہر کو اون کرنیکی ضرورت ہے کیونکہ کراچی اس ملک کا واحد معاشی حب ہے جبکہ قیام امن کی صورتحال پر کنٹرول سمیت شہریوں اور تاجروں ودیگر کاروباری حضرات کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کے بنیادی فرائض کا حصہ ہیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تاجر برادری آگے آئے اور ٹیکنالوجی وتیکنیکس کے ذریعے اس شہر کو ایڈوانس کرنے میں حکومتی اقدامات کا حصہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا انفراسٹرکچر بنائے بغیر قیام امن ممکن نہیں ہے۔اس کے لیئے ضروری ہے کہ تاجر برادری پولیس کو اپنی انفرادی اور اجتماعی سپورٹ اور معاونت جیسے اقدامات کو ممکن بنائے تاکہ پولیسنگ کے مجموعی عمل کو فول پروف اور نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے انفرادی اور اجتماعی کرادر سے معاشرے کو تعصبات کی تمام اشکال سے پاک کرنا ہوگا اور قانون کا احترام ہر سطح پر یقینی بنانا ہوگا کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم بحیثیت ایک قوم اس ملک کی تعمیر ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی شہر کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیئے تاجر برادری کو چاہیئے کہ وہ پولیس کو سپورٹ کریں۔انہوں نے کہ جرائم کے خلاف عوام بلا جھجک یا کسی خوف کے پولیس کے پاس جائیں اور شکایات درج کرائیں کیونک کسی بھی وقوعے پر ایف آئی آر کے عدم اندراج کا فائدہ کریمنلز اور باالخصوص اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان کو براہ راست پہنچتا ہے اور وہ پولیس کی تمام تر محنت کے باوجود باآسانی رہا ہوجاتے ہیں کیونکہ ملزمان کو سزائیں ٹھوس شواہد مدعی مقدمہ اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں تیار کردہ ٹھوس پولیس چالان سے ہی متعلقہ عدالتوں سے یقینی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام سامنے آئیں اور جرائم کے خلاف اپنی مدعیت میں ایف آئی آرز درج کرائیں تاکہ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اپنی کاروائیاں مذید موثر بناسکیں کیونکہ جرائم ودیگر مسائل کے بروقت حل میں شہریوں کا کردار و تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا عمل جاری ہے اور فی زمانہ فنگر پرنٹس ودیگر دستیاب جدید تیکنیکس کے استعمال سے جرائم کے خلاف پولیس کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیئے ٹریفک پولیس کی افرادی قوت اب اضافے کے ساتھ7500ہوگئی ہے جبکہ کراچی پولیس کی افرادی قوت میں اضافے کے حوالے سے بھی جوانوں کو میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا ہے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ اب سندھ اور پنجاب پولیس جرائم پیشہ عناصر کے حوالے سے ایک جدید سافٹ ویئر کی بدولت ناصرف آن لائن/باہم منسلک ہیں بلکہ دستیاب کریمنلز ریکارڈ ڈیٹا کی شیئرنگ کی بدولت جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف منظم بھی ہیں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ لاہور میں پولیس کے پاس4G سیٹس ہیں جس سے پولیس موقع کی فوری ویڈیو اپنے افسران کے علم میں لاکر فوری ایکشن لیتی ہے جبکہ لاہور میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت12000 کیمروں سے مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے۔جبکہ کراچی جیسے ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر میں صرف2100کیمرے مانیٹرنگ کررہے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شہر کی تعمیر وترقی جیسے امور سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز آگے آئیں اور قیام امن جیسے اقدامات میں پولیس سے ہرممکن تعاون کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کی سطح پر اور کراچی میں جرائم کے خلاف مختلف آپریشنز میں پولیس اور رینجرز سندھ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور میں آج اس پلیٹ فارم سے بھی شہدا کی قربانیوں کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کاروباری سرگرمیوں کا براہ راست تعلق امن وامان کے حالات پر ہے اور پولیس کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے تاہم بزنس کمیونٹی کو بھی چاہیئے کو وہ ایسے تمام اقدامات میں پولیس سے اپنے تمام تر تعاون اور معاونت کو یقینی بنائے۔

فیڈریشن ہاس میں خطاب کے دوران معروف صنعت کار ایس ایم منیر نے کہا کہ جرائم اور باالخصوص بھتہ پرچیوں کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور حالات بہتر ہونیکے باعث شہر کی رونقیں بحال ہںوگئی ہیں۔اس موقع پر تاجر برادری نے شہر میں قیام امن کے حوالے سے پولیس اقدامات کو سراہا اور جرائم کے خلاف شہریوں کی ہمت افزائی جیسے اقدام کی تعریف کرتے ہںوئے اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔