ہارورڈ یونیورسٹی کے سکالرز اور پروفیسرز کے وفد کاپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ

ْشہر میں سرویلنس کیلئی8000جدید ویڈیو کیمرے نصب کیے گئے ہیں‘چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصرخان سیف سٹیز اتھارٹی جیسے اداروں سے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہو گا؛منصوبے کو ملک بھر میںپھیلایا جائے ‘ ہارورڈ سکالرز

منگل مئی 20:38

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) امریکہ کی معروف یونیورسٹی ہارورڈ کے فارغ التحصیل سکالرز اور پروفیسرز کے وفد نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دورہ کیا اور چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان سے ملاقات کی۔ 10رکنی وفد میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسرز بھی شامل تھے جنہیں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مختلف شعبہ جات اور کارکردگی بارے بریفنگ دی گئی۔

چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان نے اس موقع پر بتایا کہ شہر بھر میں سرویلنس اور سکیورٹی کیلئی8000جدید ویڈیو کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے شہر میں 2000کلومیٹر فائبر آپٹکس بچھائی گئی جس کے دوران کوئی شاہراہ بلاک نہیں کی گئی۔ اکبر ناصر خان نے بتایا کہ شہر یوں کی فوری امداد کیلئے اہم شاہراہوں پر 300ایمرجنسی ٹیلی فون بوتھ جنہیںپینک بٹن بھی کہا جاتا ہے لگائے جا چکے ہیں۔

(جاری ہے)

پولیس کو مختلف مقدمات کی تفتیش میں مدد کیلئے 700سے زائد کیسز میں ڈیجیٹل شہادتیں فراہم کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیف سٹیز اتھارٹی کیمروں کی مدد سے 15ہزارسے زائد مشتبہ افراد کو چیک کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ہارورڈ یونیورسٹی کے سکالرز اور پروفیسرز کو پنجاب پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سینٹر کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا گیا۔

وفد کو آپریشنز اینڈ مانیٹرنگ سینٹر،ایڈوانس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس بارے بریفنگ دی گئی۔ انہیں 15 ایمرجنسی ہیلپ لائن، فیشل رکگنایزیشن ٹیکنالوجی،، اے این پی آر کیمروں بارے بھی بتایا گیا۔ ہارورڈ سکالرز کے وفد نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی کے شاہکار پراجیکٹ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سکالرزکا کہنا تھا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جوکہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹیز اتھارٹی جیسے اداروں سے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہو گا اور سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو ملک بھر میں پھیلایا جانا چاہیے۔