پاکستان کی خارجہ پالیسی کمزور،چین پر انحصار کے بجائے خود اعتمادی سے کام کرنا ہوگا، شیریں مزاری

ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیںمگر پاکستان کی خاموشی کو کمزور ی نہ سمجھے، امریکہ ، بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کرنا چاہیے،ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں متعلقہ اداروں نے بروقت اقدامات نہیں کیے، کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے دوران بین الاقوامی سطح پر ہماری سفارتکاری کمزور رہی ہے،انٹرویو

منگل مئی 21:20

پاکستان کی خارجہ پالیسی کمزور،چین پر انحصار کے بجائے خود اعتمادی سے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کی سینئر راہنما ء اور سٹرٹیجک سٹڈیز انسٹیٹیوٹ آف اسلام آباد کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شیرٍٍیں مزاری نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان خارجہ پالیسی کے حوالے سے کمزور ملک رہا ہے، پاکستان کو چین پر انحصار کرنے کی بجائے خود اعتمادی سے کام کرنا ہوگا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیںمگر پاکستان کی خاموشی کو کمزور ی نہ سمجھے، امریکہ ، بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کرنا چاہیے۔

ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں متعلقہ اداروں نے بروقت اقدامات نہیں کیے، اسی طر ح کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے دوران بین الاقوامی سطح پر ہماری سفارتکاری کمزور رہی ہے۔

(جاری ہے)

آن لائن کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران شریں مزاری نے کہا کہ سال 1998ء میں پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کا تجربہ ضروری تھا۔ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔

شیریں مزاری نے کہاکہ گزشتہ پانچ سالوںکے دوران خارجہ پالیسی کے لحاظ سے حکومت ٹھوس کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام رہی ہے ،،ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدے میں کوئی گارنٹی نہیں دی تھی، ان مسائل کو حل کرنے کیلئے پاکستان کو خود بات چیت کرنا ہوگی۔ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے دوران بھارت کو رکوانے کا کام نہیں کیا گیا ۔ پاکستان کو بھارت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر جارحانہ خارجہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو دوست ہمسایہ ممالک پر انحصار کرنے کی بجائے خود پر اعتماد کرنا ہوگا۔ بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں مگر پاکستان کی پرامن پالیسی کو کمزور ی نہ سمجھاجائے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کسی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ناخوشگوار ہیں مگر امریکہ کو پاکستان کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنا ہونگے۔

انہوںنے کہا کہ کرنل جوزف عمانیویل کے معاملے میں بھی پاکستان نے لچک دکھائی جس کا فائدہ امریکہ نے اٹھایا۔سفارتی استثنی کا مطلب کسی ملک کے شہریوںکو مارنا نہیں ہے۔۔ڈاکٹر شیرین مزاری نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کو خواہاں ہے مگر امن کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خطے میں امن واستحکام کیلئے دوستانہ تعلقات کا قائم رہنا ہے۔

افغانستان کو یہ جاننا ہوگا کہ بھارت وقت کے ساتھ اپنے مفادات تبدیل کرتا رہتاہے۔لہذا افغانستان اور پاکستان مشترکہ بارڈر منیجمنٹ کو بہتر بنانے کیلئے خود مشاورت کریں، تاکہ دونوں ممالک میں امن قائم رہے۔۔بھارت ایل اوسی پر مسلسل خلاف ورزی کے ذریعے پاکستان کے صبر کا امتحان لے رہا ہے۔۔مقبوضہ کشمیر سمیت کنٹرول لائن پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔

جو نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی حدود کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔بیرونی ممالک میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں کو شور مچاناچاہیے اور پوری دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ بھارت کنٹرول لائن پر مسلسل خلاف ورزی کرریا ہے اورمعصوم شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں تحریک انصاف کی راہنماء ڈاکٹر شیریں مزار ی نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کرنے کا موقع ملا تو بیرون ملک پاکستانیوںکو مکمل تحفظ فراہم کرینگے۔

بیرونی ممالک میں بسنے والے پاکستانی ملک کیلئے سرمایہ ہیں، انہیں وہی حقوق ملنے چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھارت نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لیے بھاگ دوڑ کررہاہے لیکن اس کے لیے ایک معیار قائم کرنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی نان این پی ٹی ممبر ملک نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن نہیں بن سکتا،۔شیریں مزاری نے کہاکہ پاکستان کو نان نیوکلیر اسٹیٹس کے ساتھ ملکر لابنگ کرنی چاہیے اور بھارت کے مقابلے میں ایک محاذ تیار کرنا ہوگا۔ صر ف چین پر انحصار کرنے سے بین الاقوامی فورمز پر معاملات حل نہیں ہونگی