حسن ابدال:تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرسیں ایم ایس کے ناروا سلوک کے خلاف سراپاء احتجاج

نرسوں نے دوران ڈیوٹی ایم ایس کی جانب سے مختلف حیلے بہانوںسے تنگ کرنے کا الزام عائد

منگل مئی 21:24

حسن ابدال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) حسن ابدال،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرسیں ایم ایس کے ناروا سلوک کے خلاف سراپاء احتجاج ۔ نرسوں نے دوران ڈیوٹی ایم ایس کی جانب سے مختلف حیلے بہانوںسے تنگ کرنے کا الزام عائد ۔ایم ایس اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں بلاوجہ پریشان کررہا ہے ۔وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف ایم ایس کی جانب سے خواتین ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کا نوٹس لیں۔

ہمیں ایم ایس ڈیوٹی ٹائم کے علاوہ رات کو دس بجے اپنے گھر بلاتا ہے کہ میری ماں بیمار ہے اس کی تیمارداری کرو ۔ بہت ہوچکا اب ہم ایم ایس کا ناراو سلوک اور اُس کی من مانی کے سامنے خاموش نہیں رہیں گی ،ایم ایس کی تبدیلی تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔نرسنگ سٹاف تفصیلات کے مطابق منگل کے روز تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حسن ابدال کی نرسوں کی جانب سے ہسپتال میں سخت احتجاج کیا گیا ۔

(جاری ہے)

نرسوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حسن ابدال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ اسد اسماعیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی احتجاج کے دوارن اُنہوں نے مختلف قسم کے پلے کارڈ اُٹھارکھے تھے جن پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے ایم ایس کے خلاف سخت کاروائی کرنے ،خواتین کی عزت کے تحفظ کی اپیل ،اسد اسماعیل کا عہدہ کا ناجائز استعمال اور نرسوں سے بدسلوکی نامنظور نامنظو ر درج تھا۔

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حسن ابدال میں ہونے والے احتجاج کے دوارن نرسنگ سٹاف جن میں شاہین ،نگہت ،رقیہ ،یونیکا اور مہرب شامل تھیں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم باعزت لوگ ہیں اور نرسنگ بڑا مہذب پیشہ ہے ہم پوری ایمانداری اور لگن سے اپنا کام سرانجام دیتی ہیںاِس سے قبل کتنے ایم ایس آئے آپ پورا ریکارڈ چیک کرسکتے ہیں ہم نے اپنی ڈیواٹی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔

گزشتہ ایک سال سے جب سے میڈیکل سپریٹنڈنٹ اسد اسماعیل نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھالا ہے وہ نرسوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کررہے ہیں ۔ایم ایس نے فاطمہ نامی نرس کو اپنا پرسنل سیکریٹری رکھا ہوا ہے اس کے ذریعے ہمیں پیغامات بھجواتا تھا رات دس ،بارہ ،ایک بجے اور جب دل چاہتاہے ہمیں ہسپتال بلوالیتا ہے۔نرسوں نے بتایا کہ ایم ایس نے ہمیں اپنے گھر بلوانا شروع کردیا کہ میری والدہ بیمار ہے تم اُن کی تیمارداری کرو دو مرتبہ تو ہم گھر گئیں اُس کے بعد ہم نے گھر جانے سے صاف انکار کردیا جب تمام حدیں عبور ہوگئیں تو ہم اپنی آواز اُٹھارہے ہیں ۔

ایم ایس اپنے عہدہ کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے ہمیں تنگ کررہا ہے اور بغیر وجہ کے ہمیں ریلیو کردیا اِس سے پہلے بھی چار لڑکیاں نشانہ بن چکی ہیں مگر وہ اپنی عزت کے ہاتھوں مجبور تھیں اس لئے وہ خاموش رہیں ۔ایم ایس ہم سے سادہ بیان حلفی مانگ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں اپنی مرضی سے جو چاہوں گا وہ لکھونگاہمارے انکار پر ایم ایس نے ہمیں ریلیو کردیا اور لیٹر ہمارے ہاتھ میں تھمادیا۔

نرسوں نے بتایا کہ ایم ایس ہمیں رات ایک یا دو بجے ایمرجنسی کے ساتھ دوسرے ہسپتالوں میں بجھواتا ہے واپسی پر ہم ڈرائیور کے ساتھ اکیلی آتی ہیں اگر راستے میں ہمارے ساتھ کچھ ہوجائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ایم ایس کے نارواسلوک پرایم ایس کے خلاف احتجاج کرنے والی نرسوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اور سیکرٹری ہیلتھ سے اپیل کی کہ اس مہذب شعبے میں موجود ایسی کالی بھیڑوں کے خلاف مکمل انکوائیری ہونی چاہیے اور ایم ایس کو اپنے عہدے سے برطرف کیا جائے۔نرسوں نے ایم ایس کے تبادلہ یا برطرفی تک اپنا پرامن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا