فاٹا انضمام مقامی لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر پاس کیا گیا ، مولانا فضل الرحمن

وزیراعظم اور‘ وزیر سفیران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ فاٹا انضمام نہیں ہوگا، ہم نے صرف سپریم کورٹ اور پشاور کی توسیع کا کہا تھا،70 سال بعد ان کو ادراک ہوا کہ قائد اعظم کا فیصلہ غلط تھا، سربراہ جمعیت علمائے اسلام کی پریس کانفرنس

منگل مئی 21:55

فاٹا انضمام مقامی لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر پاس کیا گیا ، مولانا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام مقامی لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر پاس کیا گیا۔ وزیراعظم اور‘ وزیر سفیران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ فاٹا انضمام نہیں ہوگا۔ ہم نے صرف سپریم کورٹ اور پشاور کی توسیع کا کہا تھا۔ 70 سال بعد ان کو ادراک ہوا کہ قائد اعظم کا فیصلہ غلط تھا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز قائد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا عقیل الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر آئینی ترمیم ہوچکی حالانکہ وزیراعظم ‘ وزیر سیفران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ فاٹا انضمام نہیں ہوگا۔ مقامی لوگوں نے تحفظات کو دور کئے بعیر بل پاس کیا گیا۔

(جاری ہے)

اب لوگ عوامی نمائندوں سے جواب طلب کررہے ہیں اور فاٹا کے عوام عوامی نمائندوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

جس سے مقامی نمائندے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر متوقع طور پر فاٹا میں پاٹا اور بلوچستان کے کچھ علاقے شامل کئے گئے۔ ٰاتا میں ایف سی آر کا قانون ختم کیا گیا اور اپنا نظام نافذ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بل منظور کرنے والوں کو نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا اعتراضات مسترد کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اب یہ نمائندے قرار داد کے پیچھے منہ چھپاتے ایسے فیصلوں سے ہم پاکستان کی کیا ختم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو 70 سال بعد ادراک ہوا کہ قائد اعظم کا فیصلہ غلط تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے تو صرف سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع کا کہا تھا سیاسی جماعتیں تذبذب کا شکار نہیں اور اس وقت فاٹا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔