پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013ء میں ورثہ میں ملنے والے بجلی کے شدید بحران پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، نیشنل گرڈ میں 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی شامل کی، نواز شریف کی قیادت میں ہماری جماعت نے یہ مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور گذشتہ پانچ سال کے دوران مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے اس ناممکن چیلنج کو پورا کر دکھایا ہے،، موجودہ حکومت نے آج کی طلب نہیں بلکہ اگلے 15، 20 سال کی طلب کو پورا کرنے کا بندوبست کیا ہے، بڑے ڈیمز قومی اتفاق رائے سے ہی بن سکتے ہیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا توانائی کے حوالہ سے پریس کانفرنس سے خطاب

منگل مئی 19:00

K اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013ء میں ورثہ میں ملنے والے بجلی کے شدید بحران پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، نیشنل گرڈ میں 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی شامل کی، نواز شریف کی قیادت میں ہماری جماعت نے یہ مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور گذشتہ پانچ سال کے دوران مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے اس ناممکن چیلنج کو پورا کر دکھایا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعظم ہائوس میں توانائی کے حوالہ سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور پاور ڈویژن کے وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو 18 ہزار 753 میگاواٹ بجلی کی استعداد تھی جو اب 2018ء میں 28 ہزار 704 میگاواٹ ہے جس میں پن بجلی،، تیل،، گیس، آر ایل این جی، کوئلہ، جوہری اور قابل تجدید توانائی سے حاصل ہونے والے بجلی شامل ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی گرڈ میں 10 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی شامل کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 28 ہزار 704 میں سے کچھ ہائیڈل پاور ہے جو ہر وقت دستیاب نہیں ہوتی، ضرورت کے مطابق مختلف ذرائع کو بروئے کار لایا جاتا ہے، اپریل 2018ء میں 17180 میگاواٹ پیداوار تھی جبکہ جولائی 2013ء میں 16 ہزار 170 میگاواٹ اور اپریل 2013ء میں 11 ہزار 738 بجلی پیدا ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں تقریباً 6 ہزار میگاواٹ زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قومی نظام میں 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی شامل کی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے عرصہ میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل افطار میں بجلی کی طلب 24 ہزار 800 میگاواٹ تھی جو ریکارڈ ہے۔ وزیراعظم نے بجلی کی یونٹ پیداوار کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2013ء میں یہ پیداوار 75 ہزار ارب کلو واٹ آور تھی اور جولائی میں یہ 9.913 ارب کلوواٹ آور تھی جبکہ 2018ء میں بجلی کی یونٹ پیداوار پونے 5 ارب کلو واٹ آور کے اضافی کے ساتھ بڑھ کر 11.9 ارب کلو واٹ آور ہو گئی اور جولائی میں 14.6 ارب کلو واٹ آور تک پہنچنے کی توقع ہے، یہ پانچ سال میں اصل یونٹ پیداوار کے حوالہ سے بے مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلب کا پیشگی اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2013ء میں 6.3 ارب یونٹ استعمال ہوئے جبکہ 2018ء میں 9.2 ارب یونٹ استعمال ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 45 فیصد اضافی بجلی کا استعمال کیا گیا ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ پانچ سال میں استعمال میں 45 فیصد اضافہ ہو جائے، دنیا میں یہ شرح 2 سے 4 فیصد سالانہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو زیادہ بجلی دستیاب ہوتی ہے تو وہ اس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں جس سے اس کی طلب میں اور اضافہ ہو جاتا ہے، 5 سال کے دوران 8، 9 فیصد سالانہ گروتھ رہی ہے جو کہ بہت زیادہ ہے، کچھ پاور پلانٹس ایسے تھے جن پر پہلے سے کام شروع کر دیا گیا تھا اور ہم نے انہیں مکمل کیا اور اکثر پاور پلانٹ ایسے ہیں جو ہم نے لگائے، ان کے ذریعے 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی سسٹم میں ڈالی گئی۔

وزیراعظم نے بجلی کی طلب کے حوالہ سے بتایا کہ اپریل 2013ء میں یہ 15 ہزار 816 میگاواٹ تھی جبکہ اپریل 2018ء میں یہ بڑھ کر 20 ہزار 846 میگاواٹ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بجلی زیادہ ہو گی تو طلب بھی بڑھ جائے گی، موجودہ حکومت نے آج کی طلب نہیں بلکہ اگلے 15، 20 سال کی طلب کو پورا کرنے کا بندوبست کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں پانی سے 5 ہزار 99 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی تھی، رواں سال 3 ہزار 90 میگاواٹ پن بجلی پیدا ہو رہی ہے، ذخائر میں کمی کی وجہ سے پانی سے اس سال آدھی بجلی حاصل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار پر بہت اثر پڑا ہے، رواں سال پانی کا بہائو سات فیصد کم ہے، ہائیڈل جنریشن پر اس کا کافی اثر پڑا ہے اور گذشتہ سال جو ہائیڈل جنریشن 6 ہزار میگاواٹ تھی وہ کم ہو کر 3 ہزار میگاواٹ رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں لوڈ مینجمنٹ کا معاملہ بڑا منفرد ہوتا ہے، رات 12 سے صبح 4 بجے اور شام 6 سے رات 12 بجے تک سحر و افطار کے وقت میں ملک کے 90 فیصد صارفین کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ بقیہ 10 فیصد بہت زیادہ خسارے والے فیڈرز پر ان اوقات کے دوران 3 سے 4 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں، 2013ء میں ان اوقات میں ہر گھنٹہ کے بعد بجلی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جون میں 22 ہزار 538 میگاواٹ اور جولائی میں 22176 میگاواٹ طلب ہو گی، 3 ہزار کے قریب شارٹ فال نظر آتا ہے، پانی کے ذخائر بہتر ہو گئے تو جون جولائی میں شارٹ فال نہیں ہو گا، پانی میں کمی ہوئی تو جون میں 362، جولائی میں 403 میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال ہو گا اور جولائی کے بعد ملک میں اضافی بجلی دستیاب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین ماہ ہمارے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں، اگر پانی کا بہائو ٹھیک رہا تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا بصورت دیگر معمولی شارٹ فال کا سامنا ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجلی کے مسئلہ پر قابو پا لیا ہے، وقتی ایشوز ہو سکتے ہیں، آج بھی ایک پاور ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر گئی، کچھ فنی مسئلہ ہوا لیکن اسے حل کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجلی کے چیلنج کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس ناممکن چیلنج کو پورا کر دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلب میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا، ماضی کی نسبت رمضان میں بجلی کی طلب و رسد کی صورتحال بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 11 ہزار 461 میگاواٹ سسٹم میں ڈال چکے ہیں، 10 ہزار 687 میگاواٹ اگلے تین سال میں مزید شامل کئے جائیں گے، یہ ان پاور پلانٹس کے ذریعے پیدا ہوں گے جن پر کام جاری ہے، 17119 میگاواٹ اس کے بعد آئندہ تین سالوں میں سسٹم میں آئیں گے، اس سلسلہ میں ہم نے ایک راستہ متعین کر دیا ہے، جو بھی حکومت آئے گی اور وہ اس راستے پر گامزن رہے گی تو بجلی کی کوئی قلت نہیں ہو گی لیکن بجلی کی مزید بڑھتی ہوئی طلب پر نظر رکھنا پڑے گی کیونکہ بجلی کی دستیابی کی وجہ سے اس کی طلب میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت نے قومی اتفاق رائے سے پہلی آبی پالیسی متعارف کرا دی ہے، مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس کی منظوری دیدی ہے، اب اس پر عملدرآمد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمند اور بھاشا ڈیم پر کام شروع کر دیا گیا ہے، اگر مہمند ڈیم ہوتا اور پانی سے بھرا ہوتا تو اس وقت بجلی اور پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا، یہ وہ کام ہیں جو آمریتوں کے طویل ادوار اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دور میں کئے جانے چاہیئں تھے لیکن نہیں کئے گئے، ہم نے مہمند اور بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن لائنز کی بہتری کیلئے کام کر رہی ہے، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں چیلنجز موجود ہیں، ان کو حل کیا جا رہا ہے، اس وقت جو فنی خرابیاں پیش آ رہی ہیں ان کو حل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گردشی قرضہ ہم نے چھوڑا تو وہ اس سے کم ہو گا جو ہمیں ورثہ میں ملا۔ ایل این جی کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی وجہ سے ملک میں بجلی کی پیداوار میں بہتری آئی، 6 ہزار 745 میگاواٹ ایل این جی سے پیدا کئے جا رہے ہیں، اگر ایل این جی نہ ہوتی تو آج ملک میں 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی اور تین پاور پلانٹس جو دنیا کے سب سے مستعد پاور پلانٹس ہیں نہ چل رہے ہوتے۔

وزیراعظم نے اس ضمن میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مخالفین کو چیلنج کیا کہ ایل این جی کے معاملہ پر کسی بھی ٹی وی چینل پر مجھ سے بات کر لیں، زبانی یا ثبوت کے ساتھ جس طرح بھی بات کرنا چاہیں میں تیار ہوں تاہم اگر انہوں نے محض الزام لگانا ہے اور یہ ان کی مہم کا حصہ ہے تو اور بات ہے۔ وزیراعظم نے کالا باغ ڈیم کے حوالہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ بڑے ڈیمز قومی اتفاق رائے سے ہی بن سکتے ہیں،، اگر قومی اتفاق رائے کے بغیر یہ بن سکتے ہوتے تو آمریتوں کے ادوار بن چکے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ضروریات کے حوالہ سے سیاسی بات چیت ہونی چاہئے۔ کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کے حوالہ سے عمران خان کے ایک بیان سے متعلق سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ انہوں ((عمران خان)) نے فرض کر لیا ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں گے جس کی مجھے تو کوئی توقع نہیں ہے تاہم ای سی ایل پر نام ڈالنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے، مجھے کسی سے کوئی خطرہ نہیں، مشرف دور میں بھی ہم ای سی ایل پر رہے ہیں، اگر مشرف کو برداشت کر سکتے ہیں تو انہیں بھی کر سکتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے جون میں اجلاس کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہم نے اقدامات کئے ہیں اور اس سے مطمئن ہیں، ہم نے اپنا بیانیہ اگلے اجلاس میں پیش کرنا ہے، اگر اس میں کسی کمی کی نشاندہی ہوئی تو اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے، امید ہے کہ ہمارے بیانیہ کو قبول کیا جائے گا کیونکہ ہم لگن سے کام کر رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اس کا اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے، قومی سلامتی کے امور پر بحث نہیں کی جا سکتی، ہم سب اپنے حلف کے پابند ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ نیب پر الزام نہیں لگانا چاہتا، رویوں کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو کیفیت اس وقت نیب نے پیدا کر رکھی ہے اس میں بیورو کریٹس کیلئے سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ افسروں کو بلا کر ان کی توہین نہ کی جائے، اگر کوئی شکایت ہو تو سیکرٹری سے رابطہ کیا جائے وہ جواب دے گا، جب سرکاری افسر کیلئے فیصلہ کرنا بہترین آپشن ہو تو ملک اس طرح کیسے چلے گا، ہم نے خود رسک لے کر کابینہ میں فیصلہ کرائے ہیں اور بڑی مشکل سے خود اقدام اٹھاتے ہوئے کام کرائے ہیں، میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو وزیراعظم اور وزراء کو پوچھیں افسروں کو بے عزت نہ کریں اس طرح ملک نہیں چلتا۔

اپنی وزارت عظمیٰ کے حوالہ سے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی شرمندگی یا پچھتاوا نہیں، میری بساط میں جو تھا کیا، مجھے کوئی پیشمانی نہیں۔ نیلم۔جہلم سرچارج کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو یونٹ چل پڑے ہیں اس کے سرچارج ختم کر دیئے ہیں، جب تک رقم پوری نہیں ہوتی اس طرح کے اہم قومی منصوبوں میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخ کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں، نیپرا کی ویب سائٹ پر تفصیلات موجود ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کی قلت کے مسئلہ کے حل کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے منصوبہ بندی کی، ہم ان کی ٹیم کا حصہ تھے، سب نے مل کر کام کیا، نواز شریف کی قیادت اور ان کے وژن کی روشنی میں خواجہ آصف، یونس ڈھاگہ اور سینئر بیورو کریٹس نے بجلی کے بحران کے خاتمہ کیلئے انتھک اقدامات کئے۔

انہوں نے چیلنج کیا کہ کوئی مائی لعل اس سے آدھے پلانٹ لگا کر دکھا دے جو ہم نے لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بجلی اور گیس لے لیں اور خود یہ کام کریں کیونکہ صوبوں میں بجلی کی کھلی چوری کی جاتی ہے اور اہلکاروں کو مارا جاتا ہے، پیسکو میں بہت بجلی چوری ہوتی ہے، وفاق کیلئے صوبوں میں بجلی چوری روکنا بہت مشکل ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ ہے اور عالمی بینک اس میں ضامن ہے، موجودہ مسئلہ میں ہمارا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں جائے، اس ضمن میں عالمی بینک نے فیصلہ کرنا ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔