ناصر الملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے اللہ نے موقع دے دیا، رفیع الملک

دو دن پہلے گھر میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر نگران وزیراعظم کا اختیار دیا جائے تو کیا میں قبول کروں جس پر ہم سب نے انہیں یہ عہدہ قبول کرنے کا مشورہ دیا،بھائی ناصر الملک

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل مئی 19:04

ناصر الملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے اللہ نے موقع دے دیا، رفیع ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) نگران وزیر اعظم کے بھائی رفیع الملک نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ناصر الملک کی خواہش تھی کہ وہ ملک کے لیے کچھ کریں ،نگران وزیر اعظم بنا کر اللہ نے موقع دیا۔ انکا کہنا تھا کہ دو دن پہلے گھر میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر نگران وزیراعظم کا اختیار دیا جائے تو کیا میں قبول کروں جس پر ہم سب نے انہیں یہ عہدہ قبول کرنے کا مشورہ دیا۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعظم منتخب ہونے والے سابق چیف جسٹس ناصر الملک کے بھائی رفیع الملک نے کہا ہے کہ ناصر الملک سخت مزاج جج تھے جو کسی کی بھی سفارش قبول نہیں کرتے تھے۔ ناصر الملک پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آج ان کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے ۔

(جاری ہے)

نگران وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹس(ر) ناصرالملک کے بھائی رفیع الملک نے نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کہا ہے بھائی ناصر الملک اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے دو دن پہلے گھر میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر نگران وزیراعظم کا اختیار دیا جائے تو کیا میں قبول کروں جس پر ہم سب نے انہیں یہ عہدہ قبول کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہاکہ ابھی کنفرم نہیں کہ وہ حلف کب اٹھائیں گے کیونکہ اس وقت وہ اسلام آباد اور ہم سوات میں ہیں اس لئے تفصیلی بات نہیں ہوئی مگر امید ہے کہ یکم جون تک وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے ۔ ناصرالملک کے بھائی نے مزید کہا کہ جسٹس(ر) ناصر الملک بہت ہی سخت قسم کے جج تھے جو کسی کی بھی سفارش کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ تمام فیصلے میرٹ پر کرتے تھے اور ریٹائر منٹ کے بعد وہ زیادہ تر کتابیں پڑھنے اور ایکسر سائز کرنے میں وقت گزارتے تھے۔یا د رہے کہ گزشتہ روز سابق چیف جسٹس ناصر الملک کو حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت کے بعد ملک کا نگران وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔جس کے بعد تمام سیاسی حلقوں کی جانب سے اس نام کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔