من پسند انتخابی نشان نہ ملنے پر عائشہ گلالئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف گلائی بلے باز کے نشان کی خواہشمند تھی مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں ریکٹ کا نشان الاٹ کیا گیا

muhammad ali محمد علی منگل مئی 19:14

من پسند انتخابی نشان نہ ملنے پر عائشہ گلالئی کا عدالت جانے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف گلالئی نے من پسند انتخابی نشان نہ ملنے پر عدالت کا جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف گلائی کے کی سربراہ عائشہ گلالئی بلے باز کے نشان کی خواہشمند تھیں مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں ریکٹ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کیلئے سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا عمل شروع کر دیا گیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں بغیر اعتراضات والی 77 سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کر دیئے گئے۔

اس دوران الیکشن کمیشن نے عائشہ گلائی کی جماعت تحریک انصاف گلالئی کو بھی انتخابی نشان الاٹ کردیا۔ تاہم عائشہ گلالئی کو ان کا من پسند انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

عائشہ گلالئی کو بلے باز کی جگہ ریکٹ کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ عائشہ گلالئی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کوہوں گے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے چند روزقبل تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشان کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔ جبکہ یہ بھی واضح رہے کہ عائشہ گلالئی تحریک انصاف کی جانب سے خواتین کیلئے مخصوصی نشستوں پر رکن اسمبلی منتخب کروائی گئیں تھیں۔ تاہم بعد ازاں عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کرتے ہوئے خود کو پارٹی سے الگ کرکے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دے دی تھی۔

عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر ذاتی نوعیت کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ ان الزامات کے بعد عمران خان نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی کہ عائشہ گلالئی کو نااہل قرار دیا جائے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔