سینیٹر شبلی فراز کی زیر صدارت سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے گردشی قرضوں کا اجلاس، گردشی قرضوں کے بارے میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا

منگل مئی 22:41

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے گردشی قرضوں کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر شبلی فراز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلا س میں گردشی قرضوں کے بارے میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویژن فنانس نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل پاور گرڈ 650 میگاواٹ بجلی کے الیکٹرک کو فراہم کرتا ہے ۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مارچ سے جولائی 2018ء تک بجلی کی پیداواری لاگت 8.52 روپے فی یونٹ جبکہ صارف کیلئے 11.9روپے فی یونٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت فاٹا کو 14.2بلین روپے ، آزادجموں کشمیرکو 52.44بلین روپے جبکہ صنعتی شعبوں کو 31.4بلین روپے کی سبسڈی دیتی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2013-18ء تک کے الیکٹرک کے گردشی قرضے 573 بلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ رننگ ڈیفالٹر 348 بلین روپے ہیں۔ کنوینئر کمیٹی نے کیسکو حکام کی اجلاس میں عدم شرکت پر نوٹس لیتے ہوئے اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیوب ویل پر سولر سسٹم فراہم کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو کم کیا جا سکے ۔ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ایم ڈی پیپکو نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں کُل 8631 فیڈرز ہیں جنہیں مختلف کیٹگریزمیں تقسیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5367 فیڈرز پر 10 فیصد یا اس سے کم نقصان ہے جبکہ آخری کیٹگریز میں 80 فیصد یا اس سے زیادہ کا نقصان ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ سحری، افطار سے تراویح کے دوران تمام فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ سی ای او پیسکو نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ پیسکو کے 30لاکھ صارفین ہیں، 5ہزار میگاواٹ کی گنجائش ہے، کُل 906فیڈرز ہیں، 17 سے 18 فیڈرز پیسکو اور ٹیسکوکے اکٹھے زیراستعمال ہیں۔

205 فیڈرز پر 50 فیصد یا اس سے زائد کا نقصان ہے۔ کنونیئر کمیٹی نے پیسکو حکام کو اگلے اجلاس میں ادارے کی مکمل تفصیل کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سی ای او حیسکو نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ کُل 409 فیڈرز ہیں جن میں 118فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی ہے جبکہ باقی فیڈرز پر 6سے 8گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ سی ای او سیپکو نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ کُل 487فیڈرز ہیں جن میں 51 فیڈرز 10 فیصد یا اس سے کم نقصان والے ہیں جبکہ 299 فیڈرز 80 فیصد یا اس سے زیادہ نقصان والے ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے گردشی قرضوں میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بجلی چوری کے حوالے سے 11800ایف آئی آر ز دائر کیں جن میں 79 ایف آئی آرز رجسٹرڈ ہوئیں۔ ڈی جی فنانس واپڈا نے ادارے کے کام اور کارکردگی سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا 6903 میگاواٹ بجلی پانی سے پیدا کرتا ہے ۔2485 میگاواٹ بجلی مزید پیدا کی۔

ایم ڈی پی ایس او نے کمیٹی کو بتایا کہ 3سو ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے جس کی وجہ سے ادارے کی کارکردگی پر اثر پڑرہا ہے ۔ ایم ڈی پی پی آئی بی نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کے حوالے سے نجی اداروں کو پی پی آئی بی حکومت کی طرف سے سہولت کار کا کام کرتا ہے۔ 15ہزارمیگاواٹ بجلی پی پی آئی بی کے ذریعے آئی ہوئی ہے۔

کنونیئر کمیٹی نے ہدایت کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، میر کبیر احمد محمد شاہی ، عثمان خان کاکڑ، سجاد حسین طوری، ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن، جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویژن فنانس ، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، قائم مقام ایم ڈی پاور ڈویژن، ایم ڈی پی پی آئی بی، سی ای او پیسکو، سی ای او حیسکو، سی ای او سیپکو، ایم ڈی پی ایس او، ممبر نیپرا و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔