ملک میں بجلی کا گردشی قرضہ 573 ارب روپے تک پہنچ چکا

ٹرانسمیشن لاسز کی وجہ 157 ارب،واجبات کی عدم ریکوری کی وجہ سے 248 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، فاٹا کو 14.2 ارب اور کشمیر کو 52.44 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے ،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضہ جات میں انکشافات

منگل مئی 22:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) ملک میں بجلی کا گردشی قرضہ 573 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے،ٹرانسمیشن لاسز کی وجہ 157 ارب کا نقصان ہوا ہے واجبات کی عدم ریکوری کی وجہ سے 248 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے حکومت کی جانب سے فاٹا کو 14.2 ارب اور کشمیر کو 52.44 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے ،صنعتوں کیلئے 31 ارب 40 کروڑ روپے کا پیکج دیا گیا ہے جبکہ حکومت نے کے الیکٹرک کو 69 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے کمیٹی نے ملک میں بجلی کی چوری کی روک تھام کیلئے اقدامات کی بھی ہدایات جاری کی ہیں منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضہ جات پر بریفمگ دیتے ہوئے وزارت توانائی نے بتایا کہ بجلی کی پیداواری قیمت 8 روپے 52 پیسے فی یونٹ ہے اور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کی وجہ سے 0.34 روپے کا نقصان ہو رہا ہے ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونئیر شبلی فراض کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا کمیٹی کے اجلا س میں گردشی قرضوں کے بارے میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویڑن فنانس نے کمیٹی کو بتایا کہ 650میگاواٹ نیشنل پاور گرڈ بجلی کے الیکٹرک کو فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مارچ سے جولائی 2018تک بجلی کی پیداواری لاگت 8.52روپے فی یونٹ جبکہ صارف کیلئے 11.9روپے فی یونٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت فاٹا کو 14.2بلین روپے ، آزادجموں کشمیرکو 52.44بلین روپے جبکہ صنعتی شعبوں کو 31.4بلین روپے کی سبسڈی دیتی ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2013-18تک کے الیکٹرک کے گردشی قرضے 573بلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ رننگ ڈیفالٹر348بلین روپے ہیں۔ کنونیئر کمیٹی نے کیسکو حکام کی اجلاس میں عدم شرکت پر نوٹس لیتے ہوئے اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیوب ویل پر سولر سسٹم فراہم کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو کم کیا جا سکے۔

لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ایم ڈی پیپکو نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں کٴْل 8631فیڈرز ہیں۔ جنہیں مختلف کیٹگریزمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5367فیڈرز پر 10%یا اس سے کم نقصان ہے۔ جبکہ آخری کیٹگریز میں 80%یا اس سے زیادہ کا نقصان ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ سحری ، افطار سے تراویح کے دوران تمام فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

سی ای او پیسکو نے ادارے کی کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ پیسکو کے 30لاکھ صارفین ہیں۔ 5ہزار میگاواٹ کی گنجائش ہے۔ کٴْل 906فیڈرز ہیں۔17سے 18فیڈرز پیسکو اور ٹیسکوکے اکٹھے زیراستعمال ہیں۔ 205فیڈرز 50 فیصد یا اس سے زائد کا نقصان ہے۔ کنونیئر کمیٹی نے پیسکو حکام کو اگلے اجلاس میں ادارے کی مکمل تفصیل کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔

سی ای او حیسکو نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ کٴْل 409فیڈرز ہیں جن میں 118فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ہے۔ جبکہ باقی فیڈرز پر 6سے 8گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ سی ای او سیپکو نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ کٴْل 487فیڈرز ہیں جن میں 51فیڈرز 10%یا اس سے کم نقصان والے ہیں۔ جبکہ 299فیڈرز 80%یا اس سے زیادہ نقصان والے ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے گردشی قرضوں میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بجلی چوری کے حوالے سے 11800ایف آئی آر ز دائر کیں جن میں 79ایف آئی آرز رجسٹرڈ ہوئیں۔ ڈی جی فنانس واپڈا نے ادارے کے کام اور کارکردگی سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا 6903میگاواٹ بجلی پانی سے پیدا کرتا ہے۔2485 میگاواٹ بجلی مزید پیدا کی۔

ایم ڈی پی ایس او نے کمیٹی کو بتایا کہ 3سو ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے جس کی وجہ سے ادارے کی کارکردگی پر اثر پڑرہا ہے۔ ایم ڈی پی پی آئی بی نے ادارے کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کے حوالے سے نجی اداروں کو پی پی آئی بی حکومت کی طرف سے سہولت کار کا کام کرتا ہے۔ 15ہزارمیگاواٹ بجلی پی پی آئی بی کے ذریعے آئی ہوئی ہے۔ کنونیئر کمیٹی نے ہدایت کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے