تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن ، این اے 138 قصور کی عوام نے فیصلہ سنا دیا

حلقے کی 56 فیصد عوام مسلم لیگ ن جبکہ 36 فیصد لوگ پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل مئی 20:49

تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن ، این اے 138 قصور کی عوام نے فیصلہ سنا دیا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن ، این اے 138 قصور کی عوام نے فیصلہ سنا دیا۔معروف صحافی حبیب اکرم کے کروائے گئے سروے کے مطابق حلقے کی 56 فیصد عوام مسلم لیگ ن جبکہ 36 فیصد لوگ پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق 2018 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔جیسے جیسے انتخابات قریب سے قریب تر آ رہے ہیں سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

شاس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلسوں کی صورت میں سیاسی پاور شو کے سلسلے بھی جاری و ساری ہیں اور ان جلسوں میں بڑے بڑے سیاسی نام اپنی پارٹیوں کو خیر باد کہہ کر نئی جماعتوں کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداریوں کا اعلان کر رہے ہیں۔سیاسی کارکنان اور رہنما اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت سیاسی وفاداریاں تبدیل کررہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں نے بھی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھی انتخابات کے حوالے سے مختلف پیشگوئیاں شروع کر دی ہیں جبکہ قبل از وقت انتخابات کے نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف صحافیوں کی جانب سے سروے بھی کئیے جا رہے ہیں۔اسی قسم کا ایک سروے معروف صحافی حبیب اکرم کی جانب سے قصور کے حلقے این اے 138 میں کیا گیا۔قصور جسے مسلم لیگ ن کا گڑھ بھی سمجھا جاتا رہا ہے اب بھی مسلم لیگ ن ہی کے حق میں فیصلہ سنا رہا ہے۔

صحافی حبیب اکرم نے سروے کے نتائج بتاتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی قصور میں مسلم لیگ ن کی پکڑ خاصی مظبوط ہے۔سروے کے شرکا میں سے 56فیصد لوگوں کی سیاسی ہمدردیاں مسلم لیگ ن کے ساتھ تھیں جبکہ حلقے کے 36 فیصد عوام نے مسلم لیگ ن کی بجائے تحریک انصاف کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداری کااعلان کیا جبکہ صرف 8 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ان کے علاوہ دیگر پارٹیوں کو ووٹ دیں گی۔

حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ ایسے ہی ایک سروے میں جو 2013 میں کروایا گیا تھا اس میں مسلم لیگ ن کی حمایت 56.19 فیصد تھی جو کہ 19.فیصد کم ہوئی ہے لیکن مسلم لیگ ن کے لیے زیادہ بری خبر یہ ہے کہ 2013 میں جس تحریک انصاف کو 11 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل تھی اب 36 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ اس سروے کو بھی حتمی نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ انتخابات میں امیدوار کون ہو گا یہ بات بھی اہم رول ادا کرے گی۔۔مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک اس حلقے میں امیدوار پر انحصار کرے گا جبکہ تحریک انصاف کے لیے امیدوار کوئی بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔