میں نے آرمی چیف سے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکل آ سکتی ہے، ابھی ہم مشرقی طرف سے ایل او سی کو طے نہیں کر سکے ہیں، ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کر دے گا، جنرل باجوہ نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے، فاٹا سے کے پی کے اسمبلی میں نشستیں مختص نہ کی جائیں، البتہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بات کی تھی، ہم نے اس بات پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا

جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پی پی پی اور جماعت اسلامی کی مشترکہ پریس کانفرنس

منگل مئی 23:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکل آ سکتی ہے، ابھی ہم مشرقی طرف سے ایل او سی کو طے نہیں کر سکے ہیں ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کر دے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے، فاٹا سے کے پی کے اسمبلی میں نشستیں مختص نہ کی جائیں، البتہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بات کی تھی، ہم نے اس بات پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا، پی پی پی اور جماعت اسلامی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیس کی عملداری نہیں ہونی چاہیے، ایک طرف تو انضمام کی حمایت کی اور دوسری طرف پولیس کی عملداری کو روکنے کیلئے پریس کانفرنس کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا سے کے پی کے اسمبلی میں نشستیں مختص نہ کی جائیں، البتہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بات کی تھی، ہم نے اس بات پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا، غیر متوقع طور پر ایک ایسا بل جس میں پاٹا اور بلوچستان کے علاقوں کو شامل کیا گیا اور وہاں کے عوام کے تحفظات دور کئے بغیر بل پاس کیا گیا، پاٹا سے عوامی نمائندوں کی اس ترمیم کی حمایت کرنے پر وہاں کے عوام اپنے نمائندوں کی اس ترمیم کی حمایت کرنے پر وہاں کے عوام اپنے نمائندوں کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، بجائے اپنے تحفظات کو ترمیم کی صورت میں شامل کرنے کے وہ ترمیم کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا سے ایف سی آر کا قانون ختم ہو گیا ہے مگر نئے نظام نے اس کی جگہ نہیں لی، اس سے خلاء پیدا ہو گیا ہے، جس طرح 1947میں 1892-93کے معاہدات یکسر ختم ہو گئے اور فاٹا کا علاقہ، علاقہ غیر کہلانے لگا اور قائد اعظم کو قبائلی علاقوں کے مشران سے دوبارہ معاہدہ کرنا پڑا، اس پیکج کے ساتھ جو سابقہ انگریز دور سے چلے آرہے تھے اس کے بعد پھر فاٹا کا پاکستان سے الحاق ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آج ان کو 70سال بعد ادراک ہو گیا کہ قائداعظم غلط تھے اور اب یہ لوگ فاٹا کے معاملے میں صحیح سوچ رہے ہیں، سیاسی جماعتوں کے تذبذب کا عالم یہ ہے کہ جمرود نے پی پی پی اور جماعت اسلامی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیس کی عملداری نہیں ہونی چاہیے، ایک طرف تو انضمام کی حمایت کی اور دوسری طرف پولیس کی عملداری کو روکنے کیلئے پریس کانفرنس کی جا رہی ہے، ان کو خود بھی معلوم نہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے اس سے کمایا ہے یا گنوایا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں خو خطرات دیکھ رہا تھا اس سے چشم پوشی نہیں کر سکتا تھا، میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکل آ سکتی ہے، ابھی ہم مشرقی طرف سے ایل او سی کو طے نہیں کر سکے ہیں ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کر دے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ نے کہا کہ فاٹا بل پاس ہونے کے 24گھنٹے کے اندر افغانستان کا رد عمل آیا اور انہوں نے باضابطہ طور پر اپنا رد عمل اسلام آباد میں نوٹ کرایا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ فاٹا انضمام نہیں ہو گا، رواج ایکٹ پر کارروائی روک دی جائے گی، فاٹا کے عوام کے تحفظات کا خیال نہیں رکھا گیا، فاٹا انضمام کے حوالے سے آئینی ترمیم ہو چکی ہے، نئے نظام کی وجہ سے خلاء پیدا ہو گیا ہے، مقامی لوگوں کے تحفظات دور کئے بغیر بل پاس کیا گیا، فاٹا کے معاملے پر ہم سے اتفاق رائے نہیں کیا گیا، زمینی حقائق وہی ہیں جن کا میں ذکر کرتا آرہا ہوں، لوگ عوامی نمائندوں سے جواب طلب کر رہے ہیں۔