فلسطینی کیمپ پر اسرائیلی گولہ باری، ایک فلسطینی شہید،2عام شہری زیر حراست

منگل مئی 23:02

بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی کیمپ پر ٹینک سے گولہ باری کے نتیجے میں ایک عام فلسطینی شہری شہید ہو گیا، اسرائیلی فوج نے 2فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ اسرائیلی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ حماس کی جانب سے فائرنگ کے بعد غزہ پٹی کے شمالی حصے میں فلسطینی کیمپ کو ٹینک کے گولے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی جاں بحق ہوگیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ 2 مسلح فلسطینوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔دوسری جانب فلسطینی وزیرصحت نے بتایا کہ اسرائیلی شیلنگ سے ایک شخص جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا۔حماس کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والا 25 سالہ نوجواب، ان کے مسلح ونگ کا رکن تھا۔واضح رہے کہ اتوار کو اسرائیلی شیلنگ سے 3 فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے اور انہیں بھی عسکریت پسند بتایا جارہا تھا۔

(جاری ہے)

اسرائیلی فورسز نے گزشتہ جمعرات کو اہلکار کی ہلاکت کے بعد سے مغربی کنارے میں قائم فلسطینی کیمپ پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔مقامی صحافیوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز اہلکار کی ہلاکت میں ملوث مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے پر قائم کیمپ پر چھاپے مارے تھے۔انہوں نے تصدیق کی کہ درجن بھر سے زائد اسرائیلی فورسز کے اہلکار رام اللہ کے اماری کیمپ میں داخل ہوئے اور تمام راستے بند کردیئے۔

فلسطینی وزیر صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ چھڑپ میں 13 فلسطینی معمولی زخمی بھی ہوئے تاہم اہلکاروں نے آنسو گیس اور ربر کی گولیوں کا استعمال کیا۔یاد رہے تھے کہ ہلاک ہونے والا 20 سالہ اسرائیلی اہلکار رونین لوبراسکی اسپیشل فورسز یونٹ کا ممبر تھا اور 24 مئی کو چھاپے کے دوران سر میں پتھر لگنے سے زخمی ہو گیا تھا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق گرینائیڈ کا بڑا پتھر تیسری منزل سے اہلکار کے اوپر پھینکا گیا تھا تاہم اس موقع پر کوئی بھی گرفتار عمل میں نہیں آسکی تھی۔