راؤ انوار کو گھر سے جیل منتقل کرنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی

منگل مئی 23:14

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) جعلی پولیس مقابلے میں جاں بحق نوجوان نقیب اللہ کے والد نے واقعے میں ملوث بدنام زمانہ پولیس افسر سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو گھر سے جیل منتقل کرنے کے لیے درخواست دائر کردی۔نقیب اللہ کے والد محمد خان نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست منگل کودائر کردی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملیر کینٹ کے علاقے میں راؤ انوار کے گھر کو سب جیل قرار دے کر ملزم کو رکھا گیا ہے جو غیر قانونی ہے، محکمہ داخلہ نے بغیر کسی نوٹیفیکیشن کے راؤ انوار کو اس کے گھر میں رکھا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

نقیب کے والد نے عدالت سے درخواست کی کہ راؤ انوار کے سب جیل میں رکھے جانے کو کالعدم قرار دیا جائے اور ملزم کو جیل منتقل کیا جائے، درخواست میں محکمہ اخلہ، آئی جی سندھ،، آئی جی جیل خانہ جات، سپرنڈنٹ سینٹرل جیل اور راؤ انوار کو فریق بنایا گیا ہے۔ نقیب اللہ محسود کے والد نے گزشتہ روز راؤ انوار کیخلاف غیر قانونی اثاثوں کے الزام میں نیب میں بھی درخواست دائر کی تھی۔واضح رہے کہ 13 جنوری 2018 کو کراچی میں ایس ایس پی راؤ انوار کی پولیس پارٹی نے دہشت گردی کا الزام لگا کر پولیس مقابلے میں نقیب اللہ سمیت 4 نوجوانوں کو قتل کردیا تھا تاہم بعد میں وہ مقابلہ جعلی اور مقتولین بے گناہ ثابت ہوئے۔