ہمیں ہمارے صوبائی کوٹے کے حساب سے بجلی دی جائے تو لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان نہیں ہوگا، سینیٹر مشتاق احمد خان

منگل مئی 23:22

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے، بعض علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 16سے 18گھنٹوں تک پہنچ جاتا ہے، سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والا صوبہ سب سے زیادہ تاریکی میں ڈوبا ہے، ہمیں ہمارے صوبائی کوٹے کے حساب سے بجلی دی جائے تو لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان نہیں ہوگا۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور خصوصاً گھروں میں عوام کو شدید مشکلات کی سامنا ہے،صنعت کا پہیہ رک چکا ہے اور صنعتی زون صنعتی قبرستان بن چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی کی جارہی ہے جو کہ سراسر ظلم ہے، سحری اور افطاری میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہری مسلسل احتجاج پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ ماہ مقدس میں مہنگائی کا طوفان آگیا ہے ، مرغی کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں اور غریب عوام مرغی کا گوشت کھانے سے محروم ہیں، پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور وہ بھی عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے، ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے مبارک مہینے میں مہنگائی کا عفریت عوام کے ساتھ ظلم ہے، رمضان ہمدردی، ایثار، قربانی اور غریبوں کے ساتھ یکجہتی کا مہینہ ہے لیکن اسی مہینے میں غریبوں کا خون چوسا اور ان کا استحصال کیا جارہا ہے۔

حکومت نے استحصالی طبقے کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ماہ صیام میں استحصالی طبقے کو لگام ڈالے اور مہنگائی کے عفریت کو قابو کرے،گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرے اور خیبر پختونخوا کو اپنے کوٹے کے مطابق بجلی دے۔ ہم کسی سے بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں، ہمیں اپنا حق دیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فنڈز مزدوروں کے بچوں اور بچیوں کے سکالرشپس اور شادی اخراجات پر خرچ کئے جائیں۔

اس وقت ورکرز ویلفیئر بورڈ کے پاس مزدوروں کے 162ارب روپے موجود ہیں لیکن مزدوروں کو ان کا حق نہیں دیا جارہا ۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں غریب مزدوروں پر رحم کرے اور موجودہ فنڈ ورکرز اور مزدوروں پر خرچ کرنے کے احکامات اور اقدامات اٹھائے۔