پی ایس آراے کے پرائیویٹ ممبران نے اتھارٹی افسران کی ہٹ دھرمی پراحتجاجاًً تمام میٹنگزسے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

منگل مئی 23:22

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) پرائیوٹ سکولزریگولیٹری اتھارٹی کے پرائیویٹ ممبران نے اتھارٹی افسران کی ہٹ دھرمی اورقواعدوضوابط کے برعکس فیصلوں پراحتجاجاًًپی ایس آراے کی تمام میٹنگزسے بائیکاٹ کااعلان کردیا ،نجی سیکٹرسے منتخب ممبران فضل اللہ دائودزئی،سید انس تکریم کاکاخیل،امجدعلی شاہ اور شوکت محمود نے میڈیاکوبتایاکہ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کو بطور اتھارٹی چلانا تو ٹھیک ورنہ اتھارٹی کی چھاپ لگا کر ایگزیکٹیو حکم سے چلانا ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔

رولزریگولیشن کو بغیر اتھارٹی کی منظوری کے آگے بڑھانا،گریڈ17 سے اوپر کی سیٹوں پر بغیر اتھارٹی کی سفارش کے لوگوں کو لانااور چھٹیوں کا فیصلہ بغیر اتھارٹی کی مشاورت سے کرنایہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیںکہ اسٹبلشمنٹ کا اجنڈا پرائیویٹ سکول کو چلانا نہیں بلکہ تعلیمی نظام کو برباد کرنا ہے ،دوسری طرف پشاورہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے نے ریگولیٹری اتھارٹی کے قانون کے پرخچے اورا ڑا دئیے رہی سہی کسر تعلیمی شعبے کی بجائے پی ایم ایس افسران کی اتھارٹی میں تعیناتی نے پوری کی ایسی صورت حال میں نہ اداروں کو چلایا جا سکتا ہے اور نہ پرائیویٹ سکول کے منتخب ممبران کا اتھارٹی میں بیٹھنے کا جواز بنتا ہے لہذاہم گورنمنٹ کی ان غلط بیانیوں اور رولزو ریگولیشن کی نفی اور اس سے تجاوزکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ چھٹیوں کا فیصلہ یکم جون سے اور ادارے پانچ جون تک حسب ضرورت چلانے کا ہوا تھا لیکن بغیر مشورے کے اچانک اعلان کرنا جان بوجھ کر نجی شعبہ میںہیجان اور انکو تباہ کرنیکی سازش ہے ہمیں استعفے دیکرسڑکوںپر نکلنے پر مجبور کیا جا رہے جسکے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ہم تمام منتخب ممبران اتھارٹی کے تمام میٹنگز کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں نجی شعبہ کے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان باہمی مشورکے بعد کیا جائیگا۔

متعلقہ عنوان :