لاہور،غریبوں محتاجوں کی مدد اور باطل نظام سے ٹکرانا ہی تسبیح کا حقیقی تصور ہے ، علامہ فیاض بشیر قادری

معاشرے کی اصلاح اور یزیدی نظام کا تخت الٹنے کیلئے تسبیح پڑھنے والوں کو میدان عمل میں نکلنا ہوگا، ’’تسبیح کا حقیقی تصور ‘‘ کے موضوع پر خطاب

منگل مئی 23:36

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) تحریک منہاج القرآن ملتان کے زیراہتمام پانچ روزہ دروس عرفان القرآن کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے شاگر د علامہ فیاض بشیر قادری نے ’’تسبیح کا حقیقی تصور ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر تسبیح کے دانوں پر اللہ کے ذکر کو ہی تسبیح کا تصور خیال کیا جاتا ہے مگر قرآن مجید کے مطابق معاشرے کے غریبوں،محتاجوںکی مدد اورباطل نظام سے ٹکرانا ہی تسبیح کا حقیقی تصور ہے۔

ذکر الہی کا مدعا و مقصود انسانیت کی فلاح اور بھلائی ہے۔جب دکھی انسانیت ظلم وجبر کی چکی میں پس رہی ہواور ان پر کرپٹ اور قاتل حکمران مسلط ہوں تو پھر مسجد و خانقاہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کی تسبیح کرنا بھی جرم بن جاتا ہے۔

(جاری ہے)

معاشرے کی اصلاح اوریزیدی نظام کا تخت الٹنے کیلئے تسبیح پڑھنے والوں کو ہی میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سینوں کو حسد،بغض،نفرت اورتعصب سے پاک کئے بغیر حقیقی تسبیح کا فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جب ظلم انفرادی سطح سے نکل کر ریاست کی سطح پر اجتماعی طور پر اپنے پنجے گاڑ دے تو پھر ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو بھی اجتماعیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحد ہونا ہی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔اجتماعی ظلم کے نظام میں اصلاح کی انفرادی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوتیں۔درس قرآن میں مخدوم شہباز ہاشمی،یاسرارشاد،میجر محمد اقبال چغتائی،رائو محمد عارف رضوی،علامہ خادم حسین سعیدی،علامہ عزیزالرحمن خان قادری،،ڈاکٹر ارشد بلوچ،حافظ نذرروانی،پروفیسر مجیب الرحمن ہاشمی،رائو وقاراحمد،محمد احمد قریشی،صابر علی،قاری سیف الرحمن،محمد غزالی،احسان رمضان ایڈووکیٹ،ہما اسماعیل،ڈاکٹرسمیراابرارملک،فاطمہ منعم کے علاوہ کثیر تعداد میں خواتین وحضرات نے شرکت کی۔

درس عرفان القرآن کی چوتھی نشست کل بروز جمعرات بعد نماز فجر منعقد ہوگی ۔علامہ محمد احسان رضوی ’’رمضان اور آج کا نوجوان‘‘ کے موضوع پر درس قرآن دیں گے جبکہ مخدوم زوارالحسن قادری صدارت کریں گے۔