اسلام آباد:نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی 2018 کا اعلان 2 ماہ تاخیر کے بعد کرنے کا فیصلہ

منگل مئی 23:38

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی 2018 کا اعلان 2 ماہ تاخیر کے بعد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے دستاویز کے مطابق نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت ملک میں غذائی پیداوار کو فروغ دیتے ہوئے زرعی سیکٹر میں ہر سال 4 فیصد تک گروتھ میں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس وقت پاکستانی جی ڈی پی میں زراعت کا 19.5فیصد حصہ ہے جس میں فصلوں کا حصہ 40 فیصد، لائیواسٹاک 58 فیصد، جنگلات 1 فیصد اور فشریز کا بھی 1 فیصد حصہ ہے جبکہ سروسز سیکٹر 59.6 اور انڈسٹریل سیکٹر جی ڈی پی میں 20.9 فیصد حصہ رکھتے ہیں تاہم زراعت کا پاکستان کی جی ڈی پی میں اہم حصہ ہے وفاقی وزارت غذائی تحفظ و ریسرچ کی جانب سے زرعی سیکٹر کے فروغ کے لیے نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت فصلوں، لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے کی ترقی میں سالانہ 4 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت حکومت کی جانب سے صارفین کو محفوظ، مناسب مقدار میں غذا تک رسائی کے لیے نیشنل زیرو ہنگر پروگرام بھی شروع کیا جائے گا جس کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں بھوک کو ختم کرنے کے سلسلے میں کام شروع کیا جائے گااس فوڈ پالیسی کا مقصد ملک سے غربت، بھو ک اور غذائی قلت کا خاتمہ اور استحکام ہے، پالیسی کے تحت زراعت کو مزید پیداواری اور منافع بخش بنایا جائے گا اور کاشت کاروں کو سہولتوں کی فراہمی کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے جس کے تحت کاشت کاروں کے لیے بیج، فرٹیلائزر، مشینری اور زرعی قرضوں کے سلسلے میں اقدامات کیے جائیں گے پالیسی کے تحت غذاکے ضیاع اور نقصان پر بھی کام کیا جائے گا اور غذا کے نقصان پر اعداد و شمار اکٹھے کر کے اس میں کمی لانے کے سلسلے میں کام کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جانو روں اور پرندوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت نے مقامی اور درآمدی ویٹرنری ادویہ کو ریگولیٹ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے باقاعدہ ایک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی اس کے علاوہ فوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور کاشت کاروں کو کھیتی باڑ سے زیادہ سے زیادہ فوائد فراہم کرنے کے لیے بھی کام کیاجائے گافوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت ملک میں فشریز کے فروغ کے لیے ہائی ویلیو فش فارمنگ پر بھی کام کیا جائے گا۔

فوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت سب سے اہم منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قابل تجارت اشیا کی تجارت کے سلسلے میں فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری اور سی پیک کے تحت ماڈرن پروڈکشن اور مارکیٹ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ بھی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فوڈ سیکیورٹی پالیسی دو ماہ قبل منظورکرلی گئی تھی جس کا باقاعدہ اعلان دو ماہ کی تاخیر کے بعد منگل کو کر دیا جائے گایاد رہے کہ تقریبا 2 ماہ قبل کابینہ کی جانب سے نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دے دی گئی تھی، نیشنل فوڈ سیکیورٹی پالیسی کے تحت ملک کے غذائی سیکٹر کو فروغ دینے کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے جانے ہیں۔