ملک میں دس سال کیلئے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے‘ اصل ٹیلنٹ گلی محلوں کے اندر موجود بچوں میں ہے جن کو سامنے لانا ریاست کی ذمہ داری ہے

سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، جنرل (ر) عبدالقیوم، مصطفی نواز کھوکھر، میاں عتیق شیخ، فیصل جاوید خان اور عثمان خان کاکڑ کا تقریب سے خطاب

منگل مئی 23:43

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) ایوان بالا کے چھ اراکین سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر، سینیٹر میاں عتیق شیخ، سینیٹر فیصل جاوید خان اور سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں دس سال کیلئے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے کیونکہ تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے۔

یہ مطالبہ انہوں نے نیشنل پریس کلب میں پاکستان کی سٹریٹ چائلڈ فٹ بال ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب میں کیا۔ یہ ٹیم حال ہی میں ماسکو میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے واپس آئی ہے۔ تقریب کا اہتمام مسلم ہینڈز پاکستان نے نیشنل پریس کلب اور انٹر یونیورسٹی کنسورشیم کے تعاو ن سے کیا تھا۔

(جاری ہے)

مقررین میں حامد میر،، عاصمہ شیرازی، قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف، کامسیٹس یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید زیدی، ایچ ای سی کے ڈائریکٹر جنرل فرمان انجم، مسلم ہینڈز پاکستان کے ڈائریکٹر سید ضیاء النور، تنور قیصر شاہد، پریس کلب کے صدر طارق محمود چوہدری، شکیل انجم سیکرٹری این پی سی، علی رضا علوی، ارسلان نصر ت اور دیگر شامل تھے۔

سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدر ی نے کہا کہ اصل ٹیلنٹ گلی محلوں کے اندر موجود بچوں میں ہے جن کو سامنے لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ قومی ترقی کا راز تعلیم میں ہی مضمر ہے۔ سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ اگلے دس سال کے لئے تعلیم،، کھیل اور صحت عامہ کے لئے ایمر جنسی لگائی جائے۔سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ ملک کی 64فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی تعلیم اور روزگارکی ذمہ داری ریاست پر ہے۔

سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہاکہ ملک بھر میں کھیلوں کے میدان بنائے جائیں۔ حامد میر نے کہامسلم ہینڈ ز نے سٹریٹ چلڈرن کو عالمی نمبر 2کی پوزیشن پرلا کر کھڑا کردیاجو لائق تحسین ہے۔عاصمہ شیرازی نے کہاکہ پاکستان میں اقتدار کے لئے ایمر جنسی تو لگی مگر تعلیم اور صحت کے لئے نہیں لگی۔مسلم ہینڈز کے ڈائریکٹر سید ضیاء النور نے کہاکہ پاکستان کی سٹریٹ چائلڈ فٹ بال ٹیم نے پاکستان میں سکولوں سے باہر اڑھائی کروڑ بچوں کی تعلیم و تربیت اور بہتر مستقبل کے لئے قومی مہم کا آغاز کردیا ہے۔

یہ ٹیم ورلڈ کپ میں پاکستان کے لئے دوسری پوزیشن حاصل کرکے وطن واپس آئی ہے۔ اس مہم کے تحت مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملک میں دس سال کے لئے تعلیم،، سپورٹس، صاف پانی اور صحت کے شعبہ جات پر ایمر جنسی نافذ کی جائے اور ہر سال قومی بجٹ کا 20فیصد ان شعبہ جات پر خرچ کیا جائے۔ دس سال بعد پاکستان کے تعلیمی شعبہ، سپورٹس، صاف پانی اور صحت کے حوالے سے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے اور حقیقت میں ایک نیا پاکستان جنم لے گا جو ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ ہوگا۔

ڈاکٹر جنید زیدی نے سٹریٹ چائلڈ فٹ بال ٹیم کے لئے مفت اعلیٰ تعلیم کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر جاوید اشرف نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25-Aتحت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تقریب کے اختتام پر مسلم ہینڈز کی جانب سے ٹیم کی اراکین اورآفیشلز کے لئے ایک لاکھ روپے فی کس کیش انعام تقسیم کردیئے گئے جبکہ انٹر یونیور سٹی کنسورشیم کی جانب سے سکالر شپس کا اعلان کیا گیا۔