بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے اسد درانی کے خلاف کاروائی افسوسناک قرار دے دی

انہوں نے اپنی کتاب میں کوئی نئی بات نہیں لکھی اور وہ یہ باتیں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکے ہیں،امرجیت سنگھ دُلت

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل مئی 23:39

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے اسد درانی کے خلاف کاروائی افسوسناک ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے اسد درانی کے خلاف کاروائی افسوسناک قرار دے دی۔امرجیت سنگھ دُلت کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں کوئی نئی بات نہیں لکھی اور وہ یہ باتیں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے سابقہ چیف اسد درانی اپنی متنازعہ کتاب منظر عام پر آنے کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔

تمام تر تنقید کے باوجود بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت اسد درانی کی حمایت میں سامنے آ گئے۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے اسد درانی کے خلاف کاروائی افسوسناک قرار دے دی۔امرجیت سنگھ دُلت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی سابق سربراہ اسد درانی نے اپنی کتاب میں کوئی نئی بات نہیں لکھی ہے اس سے پہلے کئی بار وہ یہ باتیں کرچکے ہیں۔

(جاری ہے)

امرجیت سنگھ دُلت کا کہنا تھا کہ ہم توصرف امن کی بات کررہے تھے، کیا پاکستان امن قائم کرنا نہیں چاہتا ؟ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھارت آنا چاہیے۔ سابق را چیف نے کہا کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس پرافسوس ہے، پاکستانی وزرائے اعظم کو بھی ہمیشہ ویلکم کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روزپاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی جانب سے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر متنازعہ کتاب لکھنے کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے مجاز اتھارٹی سے رابطہ کیاتھا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس‘ نامی ایک کتاب لکھی جس پر پاک فوج نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی 28 مئی کو جی ایچ کیو میں پیش ہو کر معاملے پر وضاحت کریں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی پیر کو جی ایچ کیو میں پیش ہوئے جس پر ان سے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر متنازع کتاب لکھنے پر وضاحت مانگی گئی ۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیدیا گیا۔ کورٹ آف انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کرینگے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جاسکیں۔