سکول داخلے کے وقت آنکھوں کا معائنہ لازمی قرار دیا جائے، الشفا ٹرسٹ

ہر بیسواں بچہ بھینگے پن یاکج نظری کا شکار ہے، چشمہ لگانے سے نقص ٹھیک ہوسکتا ہے، اندھے پن کی روک تھام کے لئے ہر یونین کونسل میں الیفائڈ آپٹومیٹریسٹ ہونا چاہیے، پروفیسرڈاکٹر طیّب افغانی

بدھ مئی 09:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) الشفاء ٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر20 واں بچہ بھینگے پن اور کج نظری کا شکا رہے ۔ ہر سال 30 لاکھ بچوں کے لئے عینکیں چاہیں ۔الشفاء ٹرسٹ کے ڈائریکٹر پراجیکٹس پروفیسر ڈاکٹر طیّب افغانی نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سکولوں میں داخلے کے وقت بچوں کی آنکھوں کا معائنہ لازمی قرار دے تاکہ کسی قسم کی بیماری کو بروقت کنٹرول کیا جاسکے ۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برس سے الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے سکول سکریننگ پروگرام کے تحت راولپنڈی ڈویژن میں 25 لاکھ بچوں کا معائنہ کیا گیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن بچوں کے لئے عینک لازمی ہے ان میں سے صرف 20 فیصد بچے ہی عینک کا استعمال کرتے ہیں جبکہ دیگر بچے اس کی پروا نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے والدین اس جانب توجہ دیتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الشفاء ٹرسٹ اب تک راولپنڈی اور اس کے گردونواح میں 15 ہزار اساتذہ کو آنکھوں کے معائنے کی ٹریننگ دے چکا ہے اور ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ بچوں کو بھینگا پن سے نجات دلائی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا اگر 16 برس تک بھینگے پن یا کم نظری یا کج نظری کا علاج نہ کیا جائے تو یہ نقائص عمر بڑھنے کے ساتھ پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں اور 16 سال کے بعد ناقابل علاج ہوچکے ہوتے ہیں جس سے عمر بھر کے لئے آنکھوں کی معذوری بھی ہو سکتی ہے ۔۔ڈاکٹر طیّب افغانی نے کہا بھینگا پن کے اکثر مسائل پیدائش کے وقت احتیاط نہ برتنے کے سبب ہوتے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ الشفاء ٹرسٹ کے زیر تعمیر ایشیا کے سب سے بڑے چلڈرن آئی ہسپتال کے فنکشنل ہونے سے ہر روز500 سو بچوں کو چیک کیاجاسکے گا۔ انھوں نے کہا کہ اندھے پن کی روک تھام کے لئے کم از کم ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک کوالیفائڈ آپٹومیٹریسٹ ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں ایسے ماہرین بصارت کی بہت کمی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ الشفاٹرسٹ کی آٹھ ٹیمیں ہر وقت سکول سکریننگ کے لیے فیلڈ میں کام کررہی ہوتی ہیں ۔

متعلقہ عنوان :