مصر، چار اعلیٰ عہدے دار اجناس مہیا کرنے والی فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

بدھ مئی 10:00

قاہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مصر میں 4 اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو خوردنی اجناس مہیا کرنے والی فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں مصرکی سرکاری فوڈ انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی ( ایف آئی ایچ سی ) کے چیئرمین بھی شامل ہیں۔۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کے مطابق گرفتار کئے گئے باقی تین عہدے داروں میں وزارتِ رسد کے ایک مشیر بھی شامل ہیں۔

وہ پارلیمان سے رابطہ کاری کے ذمہ دار تھے۔ ان کے علاوہ اس وزارت کے ترجمان اور ایف آئی ایچ سی کے چیئرمین کے دفتر میں کام کرنے والے ایک عہدیدار کو حراست میں لیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

فوری طور پر ان پر عاید کیے گئے رشوت لینے کے مبینہ الزام کی مزید تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔وزارت رسد کے حکام نے بھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مینا کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف اب پبلک پراسیکیوٹر مزید تحقیقات کریں گے۔

مینا نے رشوت دینے والی تجارتی کمپنیوں کے نام نہیں بتائیتاہم اس کا کہنا ہے کہ خوراک کی اشیاء مہیا کرنے والی یہ بڑی کمپنیاں ہیں۔انھوں نے مبینہ طور پر مذکورہ عہدے داروں کو 20 لاکھ مصری پاؤنڈ سے زیادہ رقم خریداری کے آرڈرز کے حصول اور رقوم کی بروقت ادائیگی میں سہولت مہیا کرنے میں مدد دینے کے لیے ادا کی تھی۔

متعلقہ عنوان :