ایون فیلڈ ریفرنس: کیپٹن (ر) صفدر کا عدالت کے پوچھے گئے بیشتر سوالات سے اظہار لاتعلقی

واجد ضیاء کے پیش کردہ 12 جون 2012 کا خط میرے متعلق نہیں اور یہ خط فرد جرم قوانین کے مطابق تصدیق شدہ نہیں۔

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 10:53

ایون فیلڈ ریفرنس: کیپٹن (ر) صفدر کا عدالت کے پوچھے گئے بیشتر سوالات سے ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30 مئی 2018ء) آج احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہورہی ہے۔ ااسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں، نامزد ملزمان نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی جب کہ کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ ۔احتساب عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ خط فرد جرم قوانین کےمطابق تصدیق شدہ نہیں۔

واجد ضیاکے پیش کردہ 12 جون 2012کا خط میرے متعلق نہیں،خط کو شہادت کے طور پر قبول کرنا فئیر ٹرائل کے منافی ہو گا۔موزیک فونسیکا کا خط میرے متعلق نہیں، یہ خط پرائمری دستاویز نہیں۔سرٹیفیکیٹ مجھ سے متعلق نہیں ۔یہ خط پرائمری دستاویزات نہیں۔

(جاری ہے)

جافزا کے فارم 9 کی کاپی مجھ سے متعلق نہیں،،عدالت نے سوال کیا کہ واجد ضیا نے کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق سرٹیفکیٹ پیش کیا، کیا کہیں گے؟تو کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ خط کو شہادت کے طور پر قبول کرنا فئیر ٹرائل کے منافی ہو گا۔

گلف اسٹیل ملزکے 25 فیصد شیئرز کی فروخت میں کبھی فریق نہیں رہا۔ذاتی طورپر شامل نہ ہونے کےسبب ان معاملات کا کوئی ذاتی علم نہیں،طارق شفیع سے 12 ملین درہم لےکر الثانی کودینے کاسوال مجھ سےمتعلق نہیں، جب کہ وکیل وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ بہت سی چیزیں ،کیپٹن(ر)صفدر کی شادی سے قبل کی ہیں۔یاد رہے کہ کل ہونے والی سماعت کے دوران کیپٹن (ر) صفدر نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 میں سے 80 سوالات کے جواب دیے تھے۔اس سے قبل ریفرنس میں نامزد سابق وزیراعظم و قائد مسلم لیگ  نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 128،128 سوالات کے جواب دیے تھے۔اور ان کیپٹن (ر) صفدر کے بیان ریکارڈ کروانے کا عمل جاری ہے۔