نیپال میں ایورسٹ سًر کرنے والے شِرپا گائیڈز کے لیے اعزاز

بدھ مئی 11:20

کھمنڈو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) نیپال میں کوہ پیماؤں کے گائیڈز کے لئے دنیا کی بلند ترین چوٹی تسخیر کرنے کی سالگرہ کے موقع پر سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں کوہ پیمائی میں مہارت رکھنے والے شرپا گائیڈز کو اعزازات سے نوازا گیا۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق شرپا ہمالیہ پہاڑیوں کے قریب نیپال اور تبّت کی سرحد پر بسنے والی قوم ہے جو کوہ پیمائی میں مہارت رکھتی ہے اور اکثر کوہ پیماؤں کے گائیڈ اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ تقریب ہر سال 1953ء میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما ایمونڈ ہلری اور ان کے گائیڈ ٹینزنگ نورگے کے 8,850 میٹر بلند چوٹی سر کرنے کی یاد میں رکھی جاتی ہے۔ اس برس ہونے والی اس تقریب میں حکومتی وزیر بینا ماگار نے 9 شرپا گائیڈز کو اعزازات سے نوازا۔

(جاری ہے)

بینا ماگار خود بھی ایورسٹ چوٹی سر کرنے والی کوہ پیما رہ چکی ہیں۔جن گائیڈز کو اس برس اعزازات سے نوازا گیا، ان میں کامی ریٹا بھی شامل ہیں جنہوں نے 22 بار چوٹی سر کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔

انہوں نے پہلی بار ایورسٹ کی چوٹی صرف 24 سال کی عمر میں سر کی تھی جس کے بعد سے اب وہ ہر سال اسے تسخیر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 44 سالہ لکھپا شرپا کو بھی اعزاز دیا گیا جو نو بار ایورسٹ سر کرنے والی واحد خاتون ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر رواں ماہ کے آغاز میں 50 کوہ پیماؤں کو بھی گائیڈ کیا ہے۔ تقریب میں ان سات بھائیوں کو بھی اعزازات دیئے گئے جنہوں نے مشترکہ طور پر اب تک 61 بار یہ بلندیاں طے کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا جس پرانہیں گنیز بٴْک ایف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے سرٹیفیکیٹ بھی دیا گیا۔

واضح رہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو پہلی بار سر کرنے کے بعد سے اب تک ہزاروں کوہ پیما ان چوٹیوں کو مسخر کر چکے ہیں اور اس کی نا قابل پیشگو ڈھلانیں تین سو سے زائد کوہ پیماؤں کو لقمہ اجل بنا چکی ہیں۔