پاکستان میں مجموعی طور پر انتخابات سے قبل کا عمل غیر شفاف ہے۔پلڈاٹ

نجی میڈیا کی جانبداری مشکوک ہے اور وہ واضح طورپر جانبدار ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کررہا ہے۔رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ مئی 11:24

پاکستان میں مجموعی طور پر انتخابات سے قبل کا عمل غیر شفاف ہے۔پلڈاٹ
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 مئی۔2018ء) آزاد تھنک ٹینک پلڈاٹ نے ایک سال سے زائد عرصے تک انتخابات سے قبل کے عمل کا مسلسل اور منظم طریقے سے جائزہ لینے کے بعد اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر انتخابات سے قبل کا عمل اب تک غیر شفاف ہے۔ قانون ساز ترقی اور شفافیت کے ادارے ( پلڈاٹ ) کی جانب سے جاری کردہ انتخابات سے قبل جائزہ رپورٹ میں موصول شدہ اسکور میں دوپیمانے انتہائی غیر شفاف پائے گئے، ان پیمانوں میں ایک سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے مقابلے کے لیے فوج کی غیر جانب داری کا تاثر سب سے پایا گیا اور اس کا اسکور 33.4 فیصد رہا، اسی طرح دوسرے پیمانے میں ریاستی اداروں اور ذاتی مفادات کے اثر و رسوخ سے نجی میڈیا کی آزادی کا اسکور 37.8 فیصد رہا رپورٹ میں نجی میڈیا کی جانبداری کو مشکوک قراردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میڈیا واضح طورپر جانبدار ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کررہا ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے جب پلڈاٹ کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس اسکور کا مطلب یہ ہے کہ ان کے 60 فیصد سے زائد تجزیہ کاروں اور ادارے کے ارکان کا یہ ماننا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران فوج غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کرتی اور نجی میڈیا ذاتی مفادات کے اثر و رسوخ کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ رپورٹ اپریل 2017 سے مارچ 2018 کے درمیان ہونے والے متعدد واقعات کے جائزے پر انحصار کرتی ہے۔

پلڈیٹ کی جانب سے جاری کردہ جائزہ رپورٹ میں انتخابی عمل سے قبل شفافیت کا اسکور کارڈ 11 نکاتی فریم ورک پر محیط ہے، جس میں اسے 100 میں سے کل 51.5 فیصد اسکور موصول ہوئے۔رپورٹ میں غیر منصفانہ پیمانے میں سرکاری ذرائع ابلاغ کی غیر جانبداری کا تصور 41.5 فیصد، قومی احتساب بیور (نیب) کی سربراہی میں احتسابی عمل میں غیر جانبداری کا تصور 43.1 فیصد، اسی طرح عدلیہ میں بھی غیر جانبداری کا پیمانہ کم ہوا اور اسے 45.8 فیصد اسکور دیا گیا۔

جائزہ رپورٹ میں جس پیمانے نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے مطلوبہ سطح فراہم کرنے کے لحاظ سے سب سے زیادہ اسکور حاصل کیے اس میں انتخابی انتظام کے ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے۔نوجوانوں کے انتخابات میں کردار کے حوالے سے انتخابی فہرستوں کی ساکھ کے تصور میں اسے سب سے زیادہ 67.3 فیصد جبکہ آزاد، غیر جانبدار اور قابل تاثیر ہونے میں الیکشن کمیشن کو دوسرے نمبر پر 65.3 فیصد اسکور دیا گیا۔

رپورٹ میں تیسری نمبر پر سب سے زیادہ جس کی اسکورنگ رہی وہ انتخابی عمل کے لحاظ سے حلقہ بندیوں کا عمل تھا اور اسے 11 نکات میں سے تیسرے درجے پر سب سے زیادہ 64 فیصد اسکور موصول ہوئے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان 11 نکاتی فریم ورک میں سے صرف 3 پیمانے ایسے رہے جو منصفانہ عمل کے اسکور میں شامل ہوئے ہیں، تاہم کوئی بھی پیمانہ (81 سے 100) تک کے درمیان اچھا اسکور حاصل کرنے میں ناکام رہا۔