نوجوان فلم میکرز انٹرنیشنل مارکیٹ کوٹارگٹ بنا کراچھا کام کررہے ہیں‘جیا علی

جب کسی پروجیکٹ پرپوری ٹیم ایمانداری سے اپنا کام انجام دے تواس کے نتائج مثبت ہی ہوتے ہیں‘انٹرویو

بدھ مئی 12:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) اداکارہ وماڈل جیا علی نے کہا ہے کہ فلمیں بنتی ہیں اورلوگ ان کو دیکھ کرکچھ عرصہ یاد رکھنے کے بعد بھول جاتے ہیں لیکن فلم بینوں کے زہنوں پرنقوش چھوڑ جانے والی فلمیں کہانی، میوزک، لوکیشن اورفنکاروں کی عمدہ اداکاری کی بدولت ہمیشہ ان کے دل ودماغ پرچھائی رہتی ہیں۔اپنے ایک انٹرویو میں جیا علی نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کے ماضی میں اگرجھانکیں توایسی بہت سی فلمیں بن چکی ہیں، جن کولوگ آج بھی یاد کرتے ہیں بلکہ دیکھتے ہوئے خوب انٹرٹین ہوتے ہیں۔

اگراسی طرز کی فلمیں آج کے دورمیں بننے لگیں تواس کے مثبت نتائج سامنے آئینگے، ایک فنکارکی زندگی میں بھی کچھ پروجیکٹس ایسے ہوتے ہیں، جن کو کبھی بھلایا نہیں جاتا۔ میرے نزدیک میری پہلی فلم کی کہانی اس قدرجاندارتھی اوراس کے کرداربھی حقیقت کے قریب ترتھے کہ ان کوزبردست رسپانس ملا۔

(جاری ہے)

پہلی ہی فلم میں اچھا کردارملنا اورپھرکوشائقین کی جانب سے ملنے والا رسپانس کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔

انھوں نے کہا کہ دیکھاجائے تو اس وقت پاکستان میں فلموں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔جہاں فلموں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، وہیں اس کے معیارمیں بھی بہتری آرہی ہے۔ نوجوان فلم میکرز انٹرنیشنل مارکیٹ کوٹارگٹ بنا کراچھا کام کررہے ہیں۔ فی الوقت ایسی فلمیں تونہیں بن رہی ہیں، جن کویادگارکہا جاسکے لیکن امید کی کرن ضروردکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے فنکاراورتکنیکاربہت ٹیلنٹڈ ہیں۔

حالات چاہے جیسے بھی ہوں، وہ عوام کواچھی اورمعیاری تفریح فراہم کرنے کیلیے کام کرتے رہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں جیاعلی نے کہا کہ میں یہ تونہیں کہہ سکتی کہ یہ کوئی بھی کرداریا فلم شاہکارہوتی ہے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتی ہوں کہ جب کسی پروجیکٹ پرپوری ٹیم ایمانداری سے اپنا کام انجام دے تواس کے نتائج مثبت ہی ہوتے ہیں۔ یہی نہیں اب توسوشل میڈیا کے ذریعے فلم،، ڈرامے اورگیت کی پسند اور ناپسندیدگی کا رسپانس فوری ہی مل جاتا ہے۔ اس لیے سب لوگ بہت محتاط ہو کر کام کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :