ہاکی کلب کی سکروٹنی سے ہاکی کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے، اولمپئن رائو سلیم ناظم

بدھ مئی 13:41

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری جنرل اولمپئن رائو سلیم ناظم نے کہا ہے کہ کرکٹ کلبز کی طرح ہاکی کلب کی بھی سکروٹنی کی جائے تو ملک میں ہاکی کے کھیل کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔ گذشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی میں وائلڈ کارڈ انٹری حاصل کی ہے۔

چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ 23 جون سے یکم جولائی تک ہالینڈ میں کھیلا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق ٹورنامنٹ میںچھ ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں پاکستان،، ہالینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹائن، بیلیجیئم اور بھارت شامل ہے۔ جو دنیا کی بہترین ٹیمیں ہیں اور اس ٹورنامنٹ سے ہمارے کھلاڑیوں کو اچھی تربیت کا موقع مل جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قومی ہاکی ٹیم کے غیرملکی کوچ نے چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی کے 5 فیصد امکانات ظاہر کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا اپنا اصل مقصد ایشین گیمز میں رسائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشین گیمز میں قومی ٹیم کا روایتی حریف بھارت سے مقابلہ ہو سکتا ہے جبکہ ملائیشیاء اور جاپان جیسی ٹیمیں غیر متوقع طور پر اپ سیٹ کر سکتی ہیں لیکن ان ٹیموں کا جیتنا مشکل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کرکٹ کلبز کی طرح ہاکی کلب کی بھی سکروٹنی کی جائے تو ملک میں ہاکی کے کھیل کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے اور اس سے بہترین بنیادی ڈھانچہ اور نرسری تیار ہو سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رائو سلیم ناظم نے کہا کہ گراس روٹ سطح پر زیادہ سے زیادہ ٹورنامنٹس کا انعقاد ہونا چاہئے اس میں تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وزارت تعلیم اور کھیل کو اکٹھا نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک میں کھیلیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ ٹیموں کی سلیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹیموں کی سلیکشن کے وقت پرچی اور سفارشی کلچر کو ختم کیا جائے تاکہ کھیلنے والے کھلاڑی سامنے آسکیں۔