بھارت مذاکرات کا ایجنڈہ دوٹوک انداز میں واضح کرے‘ مشترکہ حریت قیادت

کشمیری عوام کسی ایسے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس کی کوئی واضح سمیت متعین نہ ہو

بدھ مئی 13:52

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی،، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہاہے کہ کشمیری عوام کسی ایسے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس کی کوئی واضح سمت متعین نہ ہو۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے یہ بات سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں سید علی گیلانی کی رہائش گاہ پرایک ملاقات کے بعد جاری کئے جانے والے بیان میں کہی ۔

ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور وخوض کے علاوہ نام نہاد مذاکرات کے حوالے سے بھارتی رہنمائوں کے حالیہ بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بیان میں کہاگیا کہ حریت قیادت ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل پر زورددیتی رہی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اس حوالے سے تمام فریقین کے درمیان مذاکرات ہی ایک بہترین راستہ ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہاگیا کہ پاکستان ، بھارت اورکشمیری عوام سمیت تنازعہ کشمیر کے تین فریق ہیں اور اگر کوئی ایک فریق بھی مذاکرات میں شریک نہ ہو تو ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

مزاحمتی رہنمائو ںنے بھارت پر زوردیا کہ وہ دو ٹوک الفاظ میں بتائے کہ بات چیت کا اس کا ایجنڈا کیا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے حالیہ بیانات میں اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے کیوںکہ ان بیانات میں کشمیرکے تاریخی پس منظر، کشمیری عوام کے خلاف بھارتی فوجیوںکی روزانہ کی بنیاد پر جارحیت اورکنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال کو یکسر نظرانداز کیا گیا لہذا اس صورتحال میںکوئی مذاکرات کامیاب اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔

بیان میں کہا گیا راجناتھ سنگھ نے حریت اور پاکستان کیساتھ مذاکرات کی بات کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ کشمیر ہمارا ہے جبکہ وزیرِ خارجہ ششما سوراج نے مذاکرات کو پاکستان کی طرف سے بقول اُن کے دہشت گردی بند کرنے سے مشروط کردیالہذاکھلے تضادات کے اس ماحول میں مسئلہ کشمیر کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ وہ مذاکرات برائے مذاکرات کی قائل نہیں ہے بلکہ اپنے واضح موقف اور غیر مبہم طریق کار پر کاربند ہوتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کشمیر کے حالیہ دورے کے دوران مسئلہ کشمیر کو امن اور ترقی کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تاریخی تناظر کو نظرانداز کیا۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ اگر بھارتی قیادت مبہم آمیز لب ولہجے میں بات کرنے کے بجائے واضح طریقے سے اور کھلے دل کیساتھ سہ فریقی مذاکرات کے لیے ماحول کو سازگار بناتی ہے تو حریت قیادت ایسے سنجیدہ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے میں دیر نہیں کرے گی۔