بھارتی پولیس نے آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو دوبارہ گرفتار کر لیا

آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں پر 20اپریل سے پے در پے بے بنیاد مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں

بدھ مئی 13:52

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو عدالت کی طرف سے عبوری ضمانت پر رہائی کے فوراٴْ بعد دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دختران ملت کی ترجمان رفعت فاطمہ نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ سرینگر کی ایک عدالت نے آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین او رفہمیدہ صوفی کی عبوری ضمانت منظور کی تاہم بھارتی پولیس انہیں اپنے ساتھ صورہ تھانے لے گئی جہاں انکے خلا ف ایک اور جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد انہیں رام باغ تھانے منتقل کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں پر 20اپریل سے پے در پے بے بنیاد مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں جو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

آسیہ اندرابی اور دختران ملت کی دیگر دو رہنمائوں کوطلباء کو مظاہروں پر اکسانے کے جھوٹے الزامات میں رواں برس 20اپریل کو ضلع اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ تینوں رہنمائوں کو رام باغ تھانے میں غیر قانونی طور پر مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے جو سیاسی انتقام گیری کے سوا کچھ نہیں۔

انہوںنے کہا کہ 28 مئی کو عدالت نے تینوں نظر بند رہنمائوں کی عبوری ضمانت منظورکرتے ہوئے انکی فوری رہائی کے احکامات دیے تھے لیکن رہا کرنے کے بجائے ان پر ایک اور جھوٹا مقدمہ دائر کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی پولیس عدالتی احکامات کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہی ہے ۔ ترجمان نے آسیہ اندرابی کی گرتی ہوئی صحت پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے علالت کے باوجود انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ انہوںنے تینوں نظر بندرہنمائوں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا۔