کشمیرکونسل یورپی یونین کی طرف سے دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی ، شوپیاں میں دو کشمیری خواتین کی بے حرمتی اور قتل کی بھی شدید مذمت

بدھ مئی 13:53

برسلز ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) کشمیرکونسل یورپی یونین کے چیئرمین علی رضا سید نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسزکی حراست میں لاپتہ ہونے والے تمام کشمیریوں کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق علی رضا سید نے عالمی ہفتہ برائے لاپتہ افراد کے موقع پر برسلز سے جاری ایک بیان علی رضا سید نے کہاکہ ہم اس اہم موقع پر مقبوضہ کشمیرکے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

انہوںنے دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی کی کوششوں کو بھی سراہا ہے ۔ علی رضا سید نے گم شدہ افراد کے بارے میں بین الاقوامی کنونشن سمیت تمام عالمی قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا اورجبری گمشدیوں میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیرکے انسانی حقوق کمیشن نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں آٹھ ہزار سے زائد افراد کو حراست کے دوران لاپتہ کردیاگیا ہے جبکہ اس کے علاوہ ہزاروں گمنام قبریںبھی موجود ہیں بھارت اور اس کی کٹھ پتلی انتظامیہ لاپتہ افراد کی تلاش اور اس واقعات میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہے ۔

انہوںنے افسوس ظاہرکیاکہ بھارتی حکومت نے دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے بارے میں حقائق کا پتہ چلانے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان واقعات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کوئی بھی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ۔چیئرمین کشمیرکونسل یورپی یونین نے کہاکہ عالمی برادری اور بھارت کی سول سوسائٹی کو لاپتہ کشمیریوںکے کیسوںکی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ان میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قرارواقعی سزا دینے کیلئے بھارتی حکومت پر دبائوبڑھاناچاہیے ۔ انہوںنے نوبرس قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں وردی میں ملبوس اہلکاروں کے ہاتھوں دو کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفر کی اغوا کے بعد بے حرمتی اور قتل کی بھی شدید مذمت کی ۔