لیبیا میں عام انتخابات 10دسمبر کو کرانے کا اعلان ، مختلف سیاسی دھڑے متفق

پیرس کانفرنس میں لیبیا کے چار مختلف اور سب سے طاقت ور اور با اثر سیاسی گروپوں نے اتفاق کرلیا

بدھ مئی 13:59

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) سیاسی افراتفری، تقسیم اور عدم استحکام کے شکار ملک لیبیا کے مختلف سیاسی دھڑے پیرس میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اپنے ملک میں عام انتخابات کے لیے دس دسمبر کی تاریخ پر متفق ہو گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی دارالحکومت میں ہونے والی اس کانفرنس میں لیبیا کے چار مختلف اور سب سے طاقت ور اور با اثر سیاسی گروپوں کے رہنما ملک میں انتخابات کے لیے اسی سال دس دسمبر کی تاریخ پر متفق ہو گئے ۔

سیاسی افراتفری، تقسیم اور عدم استحکام کے شکار اس شمالی افریقی ملک میں قیام امن و استحکام کے لیے یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ رہنماں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ الیکشن کے نتائج کو تسلیم کیا جائے گا اور اس پر بھی کہ رائے دہی کے عمل کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

لیبیا میں سیاسی سمجھوتے کے حوالے سے پیرس میں منعقدہ اس کانفرنس کے میزبان فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں نے لیبیا میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ وزیر اعظم فائض السراج کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہاکہ آج کل ہم جس دور میں ہیں، اس میں فیصلے ناگزیر ہیں۔

کانفرنس کے آغاز سے قبل صدارتی محل میں ماکروں نے السراج سے کہا کہ مفاہمت موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ ماکروں کے یہ الفاظ اس کانفرنس کے بنیادی مقصد کی نمائندگی کرتے ہیں، جو یہ ہے کہ اس سال پارلیمانی و صدارتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جس پر تمام سیاسی دھڑے متفق ہو سکیں۔ گو کہ لیبیا میں مختلف سیاسی دھڑے اس حوالے سے متضاد نظریات کے حامل ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب غصان سلامے نے کہا کہ وہ اب کافی پر امید ہیں۔ بات چیت کے عمل میں فائض السراج کے علاوہ ایک اہم فوجی شخصیت خلیفہ ہفتار، اقوم متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے مخالف عقیلہ صالح عیسی اور ہائی کونسل آف اسٹیٹ کے نو منختب سربراہ خالد المصری شامل تھے۔ کانفرنس میں لیبیا کے رہنماں کے علاوہ بیس ممالک کے نمائندے بھی شریک تھے۔