پاکستان کے پاس اتنے ہی ذخائر موجود ہیں، جتنے 5 سال پہلے تھے ،ْوزیر اعظم

مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں 116 گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں ،ْ ،ْسی این جی کی طویل لائنیں عوام کو یاد ہیں ،ْ5 سال میں 20 لاکھ گیس کے نئے کنکشن بغیر سفارش کے لگائے گئے ،ْ گفتگو

بدھ مئی 14:18

پاکستان کے پاس اتنے ہی ذخائر موجود ہیں، جتنے 5 سال پہلے تھے ،ْوزیر اعظم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس آج بھی اتنے ہی ذخائر موجود ہیں، جتنے 5 سال پہلے موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں 116 گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔تاپی منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور پاکستان کو 2020 میں تاپی منصوبے سے گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ایل پی جی کی ملکی پیداوار میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ سی این جی کی طویل لائنیں عوام کو یاد ہیں اور آج سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی جاری ہے۔۔شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں 20 لاکھ گیس کے نئے کنکشن بغیر سفارش کے لگائے گئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ جب حکمراں جماعت کو حکومت ملی تو ملک میں 70 لاکھ گیس کنکشنز موجود تھے، جو اب بڑھ کر 90 لاکھ ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں 445 تیل کے نئے کنویں کھودے گئے اور ان کنوؤں کی کھدائی میں کامیابی کی شرح 50 فیصد رہی۔انہوں نے بتایا کہ 1700 کلومیٹر طویل 42 انچ قطر کی پائپ لائن بچھائی گئی، 46 نئے لائسنس اور 31 نئی لیز بھی دی گئیں۔ملک میں قدرتی گیس کی ترسیل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملک میں گیس کی طلب 80 لاکھ کیوبک فٹ یومیہ ہے جبکہ مکوڑی اور گمبٹ میں گیس پلانٹ بھی فعال کر دیئے گئے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان ایل این جی کے حوالے سے دنیا کا کامیاب ترین ملک ہے اور یہاں سب سے کم قیمت پر ایل این جی گیس فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ایل پی جی کے پرانے کوٹے ختم کردیئے جبکہ ایل پی جی کوٹا اسکینڈل میں بڑے بڑے نام ہیں، کسی کا نام نہیں لینا چاہتا تھا۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گیس سے سستا ایندھن کوئی نہیں ہے، کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی میسر نہیں تھی، آج انہیں گیس فراہم کی جا رہی ہے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :