چارمصری عہدے دار اجناس مہیا کرنے والی فرموں سے رشوت لیتے ہوئے گرفتار

گرفتارافراد میں مصرکی سرکاری فوڈ انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی کے چیئرمین بھی شامل،وزارت رسد کا تبصرے سے گریز

بدھ مئی 16:15

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مصر میں چار اعلی سرکاری عہدے داروں کو خوردنی اجناس مہیا کرنے والی فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ۔ان میں مصرکی سرکاری فوڈ انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی ( ایف آئی ایچ سی )کے چیئرمین بھی شامل ہیں ۔۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق گرفتار کیے گئے باقی تین عہدے داروں میں وزارتِ رسد کے ایک مشیر بھی شامل ہیں ۔

وہ پارلیمان سے رابطہ کاری کے ذمے دار تھے۔ ان کے علاوہ اس وزارت کے ترجمان اور ایف آئی ایچ سی کے چیئرمین کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ذمے دار کو حراست میں لیا گیا ہے۔فوری طور پر ان پر عاید کیے گئے رشوت لینے کے مبینہ الزام کی مزید تفصیل معلوم نہیں ہو سکی ۔وزارت رسد کے حکام نے بھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

(جاری ہے)

مینا کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف اب پبلک پراسیکیوٹر مزید تحقیقات کریں گے۔

سابق فوجی جنرل علا فہمی ایف آئی ایچ سی کے چیئرمین ہیں ۔ مصر کی یہ سرکاری کمپنی اشیائے خوردنی کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خرید کی ذمے دار ہے اور یہی سویا بین اور کینولا کے تیل کے علاوہ چینی وغیر ہ کی خرید کے لیے ٹینڈرز جاری کرتی ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں حکومت نے اس کا اشیائے خوردنی کی خرید میں کردار کم کردیا ہے اور اس کے بجائے ایک اور سرکاری ادارے جنرل اتھارٹی برائے رسد خوردنی اجناس (جی اے ایس سی)کو یہ ذمے داری سونپ دی گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :