پاکستان توانا اور متحرک ملک ،2050میں شمار دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں ہو گا، سردار مسعود خان

پاکستان اب پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز ہے ،یہ لاجسٹک ، تجارت اور سرمایہ کاری کا اہم راستہ اور منزل ہے،آزادکشمیر پرامن خطہ ،جرائم کی شرح کم ہے، تعلیمی اسکور انتہائی بلند ہے،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے ، صدر آزاد کشمیر کا تقریب سے خطاب

بدھ مئی 16:17

ویانہ آسٹریا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک توانا اور متحرک ملک ہے اور 2050میں اس کا شمار دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں ہو گا۔ پاکستان اب پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز ہے اور یہ لاجسٹک ، تجارت اور سرمایہ کاری کا اہم راستہ اور منزل ہے ۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار آسٹریا میںایک سیمیناربعنوان ’’چین اور یورپ کے درمیان پاکستان کا کردار۔

۔۔شاہراہ ریشم چین منصوبے کے مواقع اور چیلنجز‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سیمینار کا انعقاد آسٹریا کے ادارے برائے یورپین اور سکیورٹی پالیسی نے کیا جس کے سربراہ ڈاکٹر ورنرفصل بندسابق دفاعی مشیر و صدر برائے AIESہیں ۔ صدر نے چین کے BRIمنصوبے کی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے مثال بین البراعظمی منصوبہ ہے جو ایشیا ء ، یورپ اور افریقہ پر محیط ہے اور یہ ان براعظموں کی معاشی خوشحالی اور ان کے ربط کا بہترین ذریعہ بنے گا۔

(جاری ہے)

یورپی یونین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر نے کہا کہ یورپی یونین 460ملین لوگوں کی مارکیٹ ہے اور ٹیکنالوجی کی دولت سے مالا مال ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ یورپی یونین جدید رابطوں کے ذریعے دیگر دنیا سے منسلک ہو ۔ صدر نے کہا کہ یورپ میں چین کی توانائی ، مواصلات اور رئیل سٹیٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور اسی طرح چین میں یورپ صنعتی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری نے دونوں کے درمیان باہمی انحصار کے کلچر کو فروغ دیا ہے ۔

صدر نے کہا پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ چین کا انتہائی اہم منصوبہ ہے اور یہ BRIپروگرام کا ایک ذیلی منصوبہ ہے ۔ لہذا اس سلسلے میں چین اور یورپ کے درمیان پاکستان کا جو بھی کردار ہو گا وہ BRIاور CPECکے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ BRIاور CPECیورپ تک پہنچنے کی ایک دانستہ کوشش ہے جو یورپ اور چین کی مارکیٹس کو ایک دوسرے کے قریب لائے گی۔

صدر نے کہا کہ CPECکسی ایک منصوبے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک نیٹ ورک کا نام ہے بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی بندرگاہ ہو گی جو مشرقی ایشیاء ، جنوبی ایشیاء ، سنٹرل ایشیاء ، مغربی ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء کو آپس میں جوڑے گا۔ صدر نے کہا کہ اب خطے کے اور خطے سے باہر کے بہت سارے ملک اس راہداری میں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔

روس ، ترکی، اٹلی، فرانس، برطانیہ اور دیگر کئی یورپین ممالک پہلے سے ہی پاکستان اور چین کے ساتھ مشاورت کے عمل میں ہیں کہ کس طرح CPECکے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے ذریعے روس سنٹرل ایشیاء کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر کے اپنی بین الاقوامی تجارت کو فروغ دے سکتا ہے اور اس طرح روس اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات کو نئی جہت مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ پاکستان اور چین کی CPECکے اندر مشترکہ سرمایہ کاری ، روزگار، کاروباراور انسانی ترقی کے مواقعوں کو بے پناہ فروغ دے سکتی ہے۔ اور اس تناظر میں یہ یورپ اور چائنہ کے درمیان ، یورپ اور ایشیاء کے درمیان پل کا کام کر سکتی ہے اور پاکستان اس سارے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا ۔ شرکاء کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ CPECکا منصوبہ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود جاری وساری رہے گا۔

اور CPECکے منصوبے بلا تعطل پایہ تکمیل تک پہنچیں گے ۔ صدر نے کہا کہ پاکستان جیو سٹرٹیجکلی کے بجائے جیو اکنامیکلی بنیادوں پر خطے کو دیکھ رہا ہے۔ سیمینار کے شرکاء نے گہری دلچسپی لیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا ممکنہ پرامن حل ممکن ہے صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ نے میکنزم کے تحت پرامن طریقے سے بات چیت ، ڈپلومیسی ، مصالحت اور ثالثی کے ذریعے آنا چاہیے ۔

صدر نے کہا کہ طاقت کے استعمال اور ریاستی دہشت گردی سے یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا۔ صدر نے انتہائی پر اعتماد انداز میں کہا کہ ان شاء اللہ ایک دن کشمیریوں کی آواز کو دنیا سنے گی اور ان کے اس حق کو تسلیم کرے گی کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ حق خودارادیت کا استعمال کرتے ہوئے کریں گے۔ صدر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر ایک پرامن خطہ ہے اور یہاں سب سے کم جرائم کی شرح ہے اور اس کا تعلیمی اسکور انتہائی بلند ہے۔

آزادکشمیر میں انسانی حقوق کا مکمل خیال اور پاسداری رکھی جاتی ہے۔ جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی انتہائی گھمبیر صورتحال ہے انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی اس سنگین صورتحال کا نوٹس لے۔ اس سیمینار کے انعقاد کے لئے آسٹریا کی قومی دفاعی اکیڈمی اور یونیورسل پیس فیڈریشن نے بھی میزبانی کا کردار ادا کیا۔ جن کی نمائندگی بالترتیب برگیڈئیر والٹر ثیچنگراور مسٹر پیٹرہائیڈر نے کی ۔ اس سیمینار میں 70سے زائد اسکالرز ، تجزیہ نگار، سفارتکار، ڈپلومیٹس ، سفیر، اقوام متحدہ کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ممبران نے شرکت کی۔