تحریک حریت کی پارٹی رہنماء کی مسلسل نظربندی کی شدید مذمت

رہائی کے عدالتی احکامات کے باوجود میر حفیظ اللہ کو رہا نہیں کی جارہا، وہ کسی عارضوں میں مبتلا، فوری رہا کیا جانا چاہئے، ترجمان

بدھ مئی 16:17

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںتحریک حریت جموںو کشمیر نے پارٹی رہنماء میر حفیظ اللہ کو رہائی کے عدالتی احکامات کے باوجود دوبارہ جھوٹے الزامات کے تحت صدر سے مٹن پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کی شدید مذمت کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاہے کہ میر حفیظ اللہ کو 2016ء کے عوامی انتفادہ کے دوران گرفتار کیاگیاتھا اور اس دوران انہیں کٹھوعہ اورسرینگر سینٹرل جیل میں نظربند رکھا گیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ اگرچہ عدالت نے انکے خلاف عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انکی رہائی کا حکم جاری کیاتھا تاہم بھارتی پولیس انہیں رہا کرنے کی بجائے مختلف جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں میں نظربند کر رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ میر حفیظ اللہ گزشتہ ایک ماہ سے صدر پولیس اسٹیشن اسلام آباد میں نظربند تھے اور انہیں گزشتہ روز مٹن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔انہوںنے کہاکہ پارٹی رہنماء کئی عارضوں میں مبتلا ہیںاور انہیں فوری طورپر رہاکیاجانا چاہیے ۔