خواتین کوقومی دھارے میں لائے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکتا،

سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے پندرہ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ، گورنر پنجا ب ملک محمد رفیق رجوا نہ کا تقریب سے خطاب

بدھ مئی 16:21

خواتین کوقومی دھارے میں لائے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ..
لاہور۔30 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) گورنر پنجا ب ملک محمد رفیق رجوا نہ نے کہاکہ خواتین کوقومی دھارے میں لائے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکتا ، حکومت پنجاب نے خواتین کے حقوق کے تحفظ ، انہیں با اختیار بنانے اور صنفی برابری کیلئے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے مثالی اقدامات کئے ہیں جن کی ماضی میں نظیرنہیں ملتی ، انہو ں نے کہا کہ اس سلسلے میں پنجاب دوسرے صوبوں پر سبقت لے گیا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہو ںنے گزشتہ روز پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کے زیر اہتمام پنجاب صنفی مساوات رپورٹ کی افتتاحی تقریب سے کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا ، اٹلی کے سفیر) (Mr Stefano ponteeorvo، یو ایس قونصل جنرل(Elizabeth Kennedyt Trudeau) بھی موجود تھیں ، گورنر پنجاب نے کہا کہ آج ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت کی جامع اور ٹھوس پالیسیوں کی بدولت آج صحت ، تعلیم،، انتظامی ، اقتصادی یا کھیل خواہ کوئی بھی شعبہ ہو خواتین کی نمائندگی موجود ہے، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے پندرہ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، انہو ںنے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ تعلیمی اداروں میں طالبات کی تعداد طلباء کے مقابلے میں زیادہ ہے اور امتحانات میں بھی طالبات زیادہ نمبر حاصل کرتی ہیں ، انہو ںنے خواتین پر زور دیا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھروں میں بیٹھنے کی بجائے فیلڈ میں کام کر یں کیونکہ حکومت اور والدین کا پیسہ ان کی تعلیم پر خرچ ہوتا ہے ،،گورنر پنجاب نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بھی خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ دیہی خواتین کو اپنے حقوق کے بارے میں اتنا شعور حاصل نہیں جتنا شہری خواتین میں ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمارا دین اسلام بھی خواتین کو عزت و تکریم کا درس دیتا ہے، گورنر پنجاب نے پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی طر ف سے رپورٹ تیار کرنے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ یہ رپورٹ مستقبل میں ترقیاتی منصوبہ بندی اور پالیسیاں مرتب کرنے میں بہت معاون ثابت ہوگی ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشانے پنجاب میں خواتین کے حقوق سے متعلق اقدامات کو نافذ کرنے پر کمیشن کی کاوشوں کو سراہا ، انہو ں نے کہا کہ خواتین کا فنی مہارتوں کے پروگرام میں داخلہ کو یقینی بنانے ، سرکاری دفاتر میں خواتین کیلئے سہولیات کی فراہمی اور صحت کی خدمات کے مختلف پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں ، اس موقع پر پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی چئیر پرسن فوزیہ وقار نے رپورٹ کے خدوخال پیش کئے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخی قانونی پالیسیاں اور پروگرامز ہر قدم پر خواتین کی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار اداکر رہی ہیں ، انہو ںنے کہا کہ یہ رپورٹ صنفی عدم مساوات کے خاتمے ، پالیسیاں مرتب کرنے اور خواتین کو مزید بااختیار بنانے کے لیے معاون ثابت ہو ں گی ، رپورٹ کے مطابق پنجاب میں مردوں کا تناسب اکاون فیصد اور خواتین کا تناسب انچاس فیصد ہے ،رپورٹ کے مطابق پنجاب میں چون فیصد خواتین خواندہ ہیں جو کہ 2015-16ء میں اڑتالیس فیصد تھیں، اس طرح پنجاب میں 2013ء سی2017 ء تک خواتین کے ووٹ کے اندراج میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے ،امید ہے کہ یہ مثبت رجحانات پنجاب میں سیاسی ، سماجی اور خواتین کی بااختیاری کیلئے راہ ہموار کریں گے۔